مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ - أَوْ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ - فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنِّي قَالَ : مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ فَأَعْرَضَ ، فَرَجَعَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : إِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ أَنْ يَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا ، قَالَ عَلِيٌّ : فَأَتَيَانِي وَأَنَا فِي سَبِيلٍ ، فَقَالَا : بِنْتُ عَمِّكَ تُخْطَبُ ، فَنَبَّهَانِي لِأَمْرٍ ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي طَرَفًا عَلَى عَاتِقِي وَطَرَفًا آخَرَ فِي الْأَرْضِ ، حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَمُنَاصَحَتِي ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا عَلِيُّ ؟ " . قُلْتُ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ قَالَ : " وَمَا عِنْدَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَرَسِي وَبَدَنِي - يَعْنِي : دِرْعِي - قَالَ : " أَمَّا فَرَسُكَ فَلَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا " . فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، ابْغِنَا بِهَا طِيبًا " . وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا ، فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشَرَّطًا بِالشَّرِيطِ ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَمَلَأَ الْبَيْتَ كَثِيبًا - يَعْنِي رَمْلًا - وَقَالَ : " إِذَا أَتَتْكَ فَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ " . فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ ، فَقَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَهَاهُنَا أَخِي ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ ؟ ! فَقَالَ لِفَاطِمَةَ : " ائْتِينِي بِمَاءٍ " . فَقَامَتْ إِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ فِيهِ مَاءً فَأَتَتْهُ بِهِ ، فَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " قُومِي " . فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ¤ [ ثُمَّ قَالَ : أَدْبِرِي ، فَأَدْبَرَتْ فَنَضَحَ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ] ، ثُمَّ قَالَ : " ائْتِينِي بِمَاءٍ " . فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُهُ ، فَمَلَأَتُ الْقَعْبَ مَاءً فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَأَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ثُمَّ قَالَ : " ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ بِاسْمِ اللَّهِ وَالْبِرْكَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ، میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ میری شادی فاطمہ کے ساتھ کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہیں رہیں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں اور آپ سے وہی درخواست کرتا ہوں ، جو آپ نے کی ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ۔ میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ فاطمہ کے ساتھ میری شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہوں گے آپ ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلئے تاکہ ہم انہیں یہ کہیں کہ وہ بھی یہی درخواست کریں جو ہم نے کی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے ، میں راستے میں تھا ، ان دونوں نے کہا: آپ کے چچا کی بیٹی کو شادی کا پیغام دیا گیا ، پھر انہوں نے مجھے اس معاملے کے حوالے سے ترغیب دی تو میں اٹھا ، میری چادر کا ایک کنارہ میری گردن پر تھا اور دوسرا زمین پر تھا ، میں اسے کھینچتا ہوا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میری خیرخواہی سے واقف ہیں ، اور یہ چیز ہے اور وہ چیز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تو کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : آپ میری فاطمہ کے ساتھ شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے پاس گھوڑا ہے اور میری زرہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک گھوڑے کا تعلق ہے تو وہ تمہارے لئے ضروری ہے ، جہاں تک زرہ کا تعلق ہے تو اسے تم فروخت کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اسے چار سو اسّی درہم کے عوض میں فروخت کیا اور وہ رقم لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ آپ کی گود میں رکھ دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مٹھی بھر رقم لی اور فرمایا : اے بلال ! اس کے ذریعے خوشبو لے کے آؤ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کریں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک پلنگ بنوایا اور چمڑے کا تکیہ بنوایا ، جس میں پتے بھرے ہوئے تھے ، پورے گھر میں ریت ڈالی گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ خاتون تمہارے پاس آئے تو جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم نے کوئی بات نہیں کرنی ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر ) آ گئیں اور گھر کے کونے میں بیٹھ گئیں ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں گھر کے دوسرے کونے میں تھا ۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرے پاس پانی لے کے آؤ ، وہ اٹھ کر گھر میں موجود ایک برتن کی طرف بڑھیں اور انہوں نے اس میں پانی ڈالا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم کھڑی ہو جاؤ ، پھر آپ نے ان کے سینے پر اور ان کے سر پر پانی چھڑکا پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : منہ پھیر لو ۔ انہوں نے منہ پھیر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان بھی پانی چھڑکا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس اور پانی لے کر آؤ ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ انہوں نے برتن پانی سے بھرا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تھوڑا سا پانی منہ میں لیا اور پھر اس پانی سے کلی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر اور میرے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، اور پھر دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔