مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ الشَّهَادَةَ لِلْحَدِيثِ فَلَمْ أُرْزَقْهَا : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ يَقُولُ وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ : " إِنَّ اللَّهَ لَمَّا أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَفَعَلْتُ قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَنَى جَنَّةً مِنْ لُؤْلُؤَةِ قَصَبٍ ، بَيْنَ كُلِّ قَصَبَةٍ إِلَى قَصَبَةٍ لُؤْلُؤَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُشَذَّرَةٍ بِالذَّهَبِ ، وَجَعَلَ سُقُوفَهَا زَبَرْجَدًا أَخْضَرَ ، وَجَعَلَ فِيهَا طَاقَاتٍ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُكَلَّلَةٍ بِالْيَوَاقِيتِ ، ثُمَّ جَعَلَ عَلَيْهَا غُرَفًا : لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ دُرٍّ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ يَاقُوتٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا عُيُونًا تَنْبُعُ فِي نَوَاحِيهَا ، وَحُفَّتْ بِالْأَنْهَارِ ، وَجَعَلَ عَلَى الْأَنْهَارِ قِبَابًا مِنْ دُرٍّ قَدْ شُعِّبَتْ بِسَلَاسِلِ الذَّهَبِ ، وَحُفَّتْ بِأَنْوَاعِ الشَّجَرِ ، وَبُنِيَ فِي كُلِّ غُصْنٍ قُبَّةً ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ أَرِيكَةً مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ ، غِشَاؤُهَا السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ ، وَفَرَشَ أَرْضَهَا بِالزَّعْفَرَانِ ، وَفَتَقَ بِالْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ حَوْرَاءَ ، وَالْقُبَّةُ لَهَا مِائَةُ بَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ حَارِسَانِ وَشَجَرَتَانِ ، فِي كُلِّ قُبَّةٍ مِفْرَشٌ وَكِتَابٌ ، مَكْتُوبٌ حَوْلَ الْقِبَابِ آيَةُ الْكُرْسِيِّ . قُلْتُ لِجِبْرِيلَ : لِمَنْ بَنَى اللَّهُ هَذِهِ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : بَنَاهَا لِفَاطِمَةَ ابْنَتَكَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، سِوَى جِنَانِهِمَا تُحْفَةٌ أَتْحَفَهُمَا ، وَأَقَرَّ عَيْنَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمِسْمَعِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں اس حدیث کی گواہی مسلسل تلاش کرتا رہا لیکن وہ مجھے نہیں ملی ، غزوہ تبوک کے موقع پر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جب مجھے یہ حکم دیا کہ میں فاطمہ کی شادی علی سے کروا دوں تو میں نے ایسا کر دیا ، جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے جنت میں موتیوں کا ایک گھر بنایا ہے ، جس کے ایک موتی سے لے کر دوسرے موتی ایسے ہیں ، جن پر سونا لگا ہوا ہے ، اور اس گھر کی چھت سبز زبرجد سے بنی ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس میں موتیوں کے بنے ہوئے طاق بنائے ہیں جو یاقوت سے آراستہ ہیں ، اور پھر ان پر بالاخانے بنائے ہیں جن میں ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک اینٹ سونے کی ہے ، اور ایک اینٹ قیمتی پتھر کی ہے ، ایک اینٹ یاقوت کی ہے ایک اینٹ زبرجد کی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں چشمے بنائے ہیں جو اس کے اطراف میں بہتے ہیں ، اور اسے نہروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اس نے اس کی نہروں کے پاس موتیوں سے بنے ہوئے قبے بنائے ہیں ، جن میں سونے کی بنی ہوئی زنجیریں لٹک رہی ہیں ، اور انہیں مختلف قسم کے درختوں سے ڈھانپا گیا ہے ، اس میں ہر شاخ میں ایک قبہ ہے اور ہر قبے میں ایک بستر ہے ، جو سونے کا بنا ہوا ہے ، اس کا بچھونا ، سندس اور استبرق کا ہے اور اس کی زمین زعفران کی ہے جو مشک اور عنبر سے آراستہ ہے اور اس میں سے ہر ایک میں ایک حور موجود ہے ، ہر قبے کے ایک سو دروازے ہیں ، ہر دروازے پر دو پہرے دار ہیں اور دو درخت ہیں اور ہر قبے میں بچھونے ہیں اور ایک تحریر شدہ تحریر ہے ، اس کے اردگرد آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ نے یہ کس کے لئے بنایا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! اس نے آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے لئے اس کو بنایا ہے اور ان کے لیے اس باغ کے علاوہ بھی کچھ تحفے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرے گا اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ مسمعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔