حدیث نمبر: 15211
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَى أَبَا بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا يُزَوِّجُنِي ، قَالَ : إِذَا لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَإِنَّكَ مِنْ أَكْرَمِ النَّاسِ عَلَيْهِ ، وَأَقْدَمِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا عَلَيْكِ فَاذْكُرِي لَهُ أَنِّي ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ ; فَلَعَلَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي . قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَتْ مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ذَكَرَ فَاطِمَةَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَذْكُرَهَا . قَالَ : " حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ " . قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَتَاهُ ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْ لَهُ الَّذِي ذَكَرْتَ . فَلَقِيَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ ، فَقَالَ : يَا حَفْصَةُ إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِقْبَالًا - يَعْنِي عَلَيْكِ - فَاذْكُرِينِي لَهُ وَاذْكُرِي فَاطِمَةَ ; لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي . قَالَ : فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَفْصَةَ ، فَرَأَتْ طِيبَ نَفْسٍ وَرَأَتْ مِنْهُ إِقْبَالًا ، فَذَكَرَتْ لَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ : " حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ " . فَلَقِيَ عُمَرُ حَفْصَةَ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا أَبَتَاهُ ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ ذَكَرْتُ لَهُ شَيْئًا . فَانْطَلَقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ فَاطِمَةَ ؟ فَقَالَ : أَخْشَى أَنْ لَا يُزَوِّجَنِي قَالَ : فَإِنْ لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَأَنْتَ أَقْرَبُ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ ؟ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مِثْلَ عَائِشَةَ وَلَا مِثْلَ حَفْصَةَ ، قَالَ : فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ فَاطِمَةَ قَالَ : " فَافْعَلْ " . قَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا دِرْعِي الْحُطَمِيَّةُ . قَالَ : " فَاجْمَعْ مَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَائْتِنِي بِهِ " . قَالَ : فَأَتَى بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَرْبَعُ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ ، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَبَضَ ثَلَاثَ قَبَضَاتٍ ، فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ أَيْمُنَ ، فَقَالَ : " اجْعَلِي مِنْهَا قَبْضَةً فِي الطِّيبِ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَالْبَاقِي فِيمَا يُصْلِحُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْمَتَاعِ " . فَلَمَّا فَرَغَتْ مِنَ الْجِهَازِ وَأَدْخَلَتْهُمْ بَيْتًا قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُحْدِثَنَّ إِلَى أَهْلِكَ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ " . فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَاطِمَةُ مُتَقَنِّعَةٌ ، وَعَلِيٌّ قَاعِدٌ ، وَأُمُّ أَيْمَنَ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ائْتِنِي بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ " . فَأَتَتْهُ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ فَاطِمَةَ فَشَرِبَتْ ، وَأَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ جَبِينَهَا وَبَيْنَ كَتِفَيْهَا وَصَدْرِهَا ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اشْرَبْ " . ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ بِهِ جَبِينَهُ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَهْلُ بَيْتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ أَيْمَنَ ، وَقَالَ : " يَا عَلِيُّ أَهْلَكَ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ! کیا وجہ ہے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اس کی شادی نہیں کروائیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر وہ آپ کے ساتھ نہیں کروائیں گے ، تو اور کس کے ساتھ کروائیں گے حالانکہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہیں اور اسلام میں سب سے زیادہ قدیم ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا : اے عائشہ ! جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوش گوار دیکھو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہوں تو ان کے سامنے یہ بات ذکر کرنا کہ میں نے فاطمہ کا ذکر کیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کا ذکر کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی ( اللہ کا ) فیصلہ آنے دو ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابا جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ بات ذکر نہ کی ہوتی جو میں نے ذکر کی ہے ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہی تھی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور بولے : اے حفصہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں ، تو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کرنا اور فاطمہ کا ذکر کرنا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نازل نہیں ہوتا ، بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے ابان جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس حوالے سے کوئی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر نہ کی ہوتی ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ آپ فاطمہ کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی نہیں کروائیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ آپ کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، تو کس کے ساتھ کروائیں گے جبکہ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرنے کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرح کوئی نہیں تھا ۔ ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس صرف میری حطمی زرہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس جو چیز بھی ہے تم اسے اکٹھا کرو اور اسے لے کر میرے پاس آؤ ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بارہ اوقیہ لیے کے آئے ، جو چار سو اسی درہم بنتے ہیں ۔ وہ اس رقم کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروا دی ، آپ نے اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا ، وہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دی اور فرمایا : ان میں سے ایک حصے کے ذریعے تم خوشبو لو ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ باقی کی رقم کے ذریعے عورت کے لئے جو ضروری ساز و سامان ہوتا ہے ، وہ لو ، جب وہ خاتون تمام سامان تیار کر کے فارغ ہو گئیں ، تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا دی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی بات اس وقت تک نہیں کرنی ، جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر اوڑھ کر بیٹھی ہوئی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی گھر میں موجود تھیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے پاس پانی کا پیالہ کے کر آؤ ! وہ ایک پیالہ لے کر آئیں ، جس میں پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا ، پھر اس میں کلی کر دی ، پھر آپ نے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ، انہوں نے اسے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی پر ، ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ، اور ان کے سینے پر چھڑکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا اور فرمایا : اے علی ! تم پیو ! پھر آپ نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان چھڑکا اور پھر یہ فرمایا : یہ میرے اہل بیت ہیں ، ( اے اللہ ! ) تو ان سے گندگی کو دور کر دے ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! اپنی بیوی کے پاس چلے جاؤ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1409)»