حدیث نمبر: 15202
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا ، فَقَالَ لَهَا : " مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، انہوں نے عرض کی : اسماء ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کرنے لگی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (405/22)»