حدیث نمبر: 15201
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ - خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجْهَا فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا " . إِلَى هَاهُنَا يَنْتَهِي حَدِيثُ خَالِدٍ [ الْحَذَّاءِ ] وَفِي الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ : قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ تَحْتَ رَجُلٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَاخْتَصَرَهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اس عورت کے ساتھ شادی کرنی ہے تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالد حذاء کی نقل کردہ روایت یہاں ختم ہو جاتی ہے ۔ اس حدیث میں یہ بات اضافی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کی صاحبزادی ، اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (804) أخرجه البزار فى المسند (2652) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 11975»