حدیث نمبر: 15200
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلْمَرْأَةِ ؟ فَسَكَتُوا فَلَمَّا رَجَعَتْ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ : أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ ؟ " قَالَتْ : لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : عورت کے لئے کیا چیز سب سے بہتر ہے ؟ لوگ خاموش رہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں واپس گھر گیا تو میں نے فاطمہ سے دریافت کیا ، خواتین کے لئے کون سی چیز سب سے زیادہ بہتر ہے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ کہ مرد انہیں نہ دیکھیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : بعد میں میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میری جان کا ٹکڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2653)»