مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15177
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْتَزُّوا رَأَسَهُ ، وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةٍ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ ، يَتَحَيَّوْنَ بِالرَّأْسِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ ، فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ : ¤ أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ . ¤ فَهَرَبُوا وَتَرَكُوا الرَّأْسَ ، ثُمَّ رَجَعُوا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
ابوقبیل بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو لوگوں نے ان کا سر اتار لیا ، وہ لوگ پہلے مرحلے پر بیٹھ کر نبیذ پینے لگے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے حوالے سے ذکر کرنے لگے ، تو لوہے کا ایک قلم نکل کر ان کے سامنے آیا اور اس نے خون کے ساتھ دیوار پر یہ شعر لکھا : ” وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہے ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا کی شفاعت کی امید رکھے گی ؟ “ تو وہ لوگ بھاگ گئے اور سر کو وہاں چھوڑ دیا پھر وہ لوگ واپس آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔