حدیث نمبر: 15176
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ : لَمَّا أُدْخِلَ ثَقَلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَوُضِعَ رَأْسُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، بَكَى يَزِيدُ ، وَقَالَ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ صَاحِبَكَ مَا قَتَلْتُكَ أَبَدًا . فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ : لَيْسَ هَكَذَا . قَالَ يَزِيدُ : كَيْفَ يَا ابْنَ أُمِّ ؟ قَالَ : ( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ) . وَعِنْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ - : ¤ لَهَامٌ بِجَنْبِ الطَّفِّ أَدْنَى قَرَابَةً مِنِ ابْنِ زِيَادِ الْعَبْدِ ذِي النَّسَبِ الْوَغْلِ ¤ سُمَيَّةُ أَمْسَى نَسْلُهَا عَدَدَ الْحَصَى وَبِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ لَيْسَ لَهَا نَسْلُ ¤ . ¤ فَرَفَعَ يَزِيدُ يَدَهُ ، فَضَرَبَ صَدْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ : اسْكُتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ ، ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن حسن مخزومی بیان کرتے ہیں : جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے اہل خانہ کو یزید بن معاویہ کے پاس لایا گیا ، اور ان کا سر اس کے سامنے رکھا گیا ، تو یزید رو پڑا اور اس نے یہ شعر پڑھا : ” ہم اپنے نزدیک چند محبوب لوگوں کی وجہ سے سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں آپ کے سامنے ہوتا تو میں آپ کو کبھی شہید نہ کرتا ، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہیں ہے ، یزید نے کہا: وہ کیسے ؟ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ اس وقت وہاں عبدالرحمن بن ام حکم موجود تھے ، تو عبدالرحمن بن ام حکم نے یہ اشعار پڑھے : ” طف “ کے مقام پر موجود سر ، زیادہ قریب کی رشتہ داری رکھتا تھا ، ابن زیاد غلام کی بہ نسبت ، جس کا نسب ہی مشکوک ہے ، سمیہ کی اولاد ، تو کنکریوں کی تعداد میں بے شمار ہو گئی ہے ، لیکن اللہ کے رسول کی صاحبزادی کی نسل ( یعنی ) اولاد زندہ نہیں رہی ۔ “ یزید نے ہاتھ اٹھا کر عبدالرحمن کے سینے پر مارا اور بولا: تم خاموش رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی راوی سے مراد محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2848)»