مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15178
وَعَنْ إِمَامٍ لِبَنِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ قَالَ : غَزَوْنَا الرُّومَ ، فَنَزَلُوا فِي كَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِهِمْ ، قَرَأُوا فِي حَجَرٍ مَكْتُوبٍ : ¤ أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ . ¤ فَسَأَلْنَاهُمْ : مُنْذُ كَمْ بُنِيَتْ هَذِهِ الْكَنِيسَةُ ؟ قَالُوا : قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ نَبِيُّكُمْ بِثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
بنو سلیمان کے امام اپنے بزرگوں کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں : ہم لوگ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لے رہے تھے ۔ ان لوگوں نے ایک گرجے میں رہائش اختیار کی وہاں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا تھا : ” وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہو ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا سے شفاعت کی امید رکھے گی ؟ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ گرجا کب بنا تھا ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ تم لوگوں کے نبی کی بعثت سے تین سو سال کا پہلے کا بنا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔