مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15158
وَعَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارًا ، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : هَلْ رَأَيْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَحَاجِبُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
عبیداللہ بن زیاد کا دربان کہتا ہے : میں محل میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے داخل ہوا جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا ، تو عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کی طرف سے آگ آئی اور اس نے اپنی آستین کے ذریعے اپنے چہرے کو اس طرح چھپانے کی کوشش کی ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم نے یہ دیکھا ؟ میں نے کہا: جی ہاں ، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے اس بات کو چھپا کے رکھنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبیداللہ کے دربان سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔