حدیث نمبر: 15159
وَعَنِ الزَّهْرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ : أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَعْلَمْتَنِي ، أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ . فَقَالَ : قُلْتُ : لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٍ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ : إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

زہری بیان کرتے ہیں : عبدالملک نے مجھ سے کہا: تم وہ واحد شخص ہو جو مجھے بتا سکتے ہو کہ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن کی مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں نے بتایا : اس دن بیت المقدس کی جو بھی کنکری اٹھائی جائے گی اس کے نیچے سے تازہ خون نکلے گا ، تو عبدالملک نے مجھ سے کہا: میں اس بات کے حوالے سے میں اور تم ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2856)»