حدیث نمبر: 15157
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ; فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللَّهُ ؟ فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ ; فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

اہورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یا ان کے اہل بیت میں سے کسی کو برا نہ کہو کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی تھا ، جو بلہجیم میں تھا اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی آنکھوں میں دو ستارے ( یعنی ان کی روشنی ) ماری اور اس شخص کی بینائی ختم ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2830)»