حدیث نمبر: 15141
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ [ قَالَ عَمَّارٌ : فَحَفِظْنَا وَذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور غبار آلود تھے آپ کے پاس ایک شیشی تھی جس میں خون موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ تلاش کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے ، آج میں مسلسل اس کا سامنا کر رہا ہوں ۔ عمار کہتے ہیں ۔ ہم نے وہ دن یاد رکھا تو ہمیں یہ بات پتہ چلی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اسی دن شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2842) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2265 و 553)»