مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ قَالَ : مَرَّ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ مِنْ وَلَدِ هَذَا الرَّجُلِ رَجُلٌ فِي عِصَابَةٍ ، لَا يَجِفُّ عَرَقُ خُيُولِهِمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَمَرَّ حَسَنٌ ، فَقَالُوا : هَذَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ ؟ قَالَ : لَا . فَمَرَّ حُسَيْنٌ ، فَقَالُوا : هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَمَّارًا لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤عمار دہنی بیان کرتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر کعب احبار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا: ان صاحب کی اولاد میں سے ایک شخص کو ساتھیوں سمیت قتل کیا جائے گا ، اور ان کے گھوڑوں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے وہ لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں گے ، اس دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا: اے ابواسحاق وہ صاحب یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گزرے ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ عمار دہنی نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔