حدیث نمبر: 15139
وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ حِينَ أَحَسَّ بِالْقَتْلِ : ائْتُونِي ثَوْبًا لَا يَرْغَبُ فِيهِ أَحَدٌ أَجْعَلْهُ تَحْتَ ثِيَابِي لَا أُجَرَّدُ . فَقِيلَ لَهُ : تُبَّانٌ . فَقَالَ : لَا ، ذَاكَ لِبَاسُ مَنْ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الذِّلَّةُ ، فَأَخَذَ ثَوْبًا فَحَرَقَهُ ، فَجَعَلَهُ تَحْتَ ثِيَابِهِ ، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ جَرَّدُوهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا ، تو انہوں نے فرمایا : میرے پاس ایسا کپڑا لے کے آؤ ، جس میں کسی کو دلچسپی نہ ہو ( یعنی جو غیر ضروری ہو ) تاکہ میں اسے اپنے کپڑوں کے نیچے رکھ لوں ، تاکہ مجھے برہنہ نہ کیا جائے ۔ ان سے کہا: گیا ایک لنگوٹ ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ یہ تو اس شخص کا لباس ہوتا ہے ، جس پر ذلت مسلط کر دی گئی ہو ، پھر انہوں نے ایک کپڑا لیا اور اسے اپنے کپڑے کے نیچے باندھ لیا ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو لوگوں نے ان کے کپڑے اتار لئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2850)»