حدیث نمبر: 15138
وَعَنِ ابْنِ وَائِلٍ - أَوْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَةَ - أَنَّهُ شَهِدَ مَا هُنَاكَ قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَفَيَكِمُ حُسَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : أَبْشِرْ بِالنَّارِ . قَالَ : أَبْشِرْ بِرَبٍّ رَحِيمٍ ، وَشَفِيعٍ مُطَاعٍ . قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا ابْنُ جُوَيْرَةَ - أَوْ حُوَيْزَةَ - . قَالَ : اللَّهُمَّ حُزَّهُ إِلَى النَّارِ ، فَنَفَرَتْ بِهِ الدَّابَّةُ فَتَعَلَّقَتْ رِجْلُهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنْهُ إِلَّا رَجْلُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

ابن وائل ، شاید وائل بن علقمہ بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت وہاں موجود تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان حسین ہے ، لوگوں نے بتایا جی ہاں ، اس نے کہا: تم جہنم کی اطلاع حاصل کرو ، تو انہوں نے کہا: تم رحم کرنے والے پروردگار کی اطلاع حاصل کرو اور شفاعت کرنے والی ایسی ہستی کی جن کی اطاعت کی جاتی ہے ، لوگوں نے کہا: تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں این جویرہ ہوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن حویزہ ہوں ، انہوں نے کہا: اے اللہ ! اسے جہنم کی طرف لے جا ، تو اس کے جانور نے اسے گرا دیا ، اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے جسم میں سے صرف وہ پاؤں ہی بچا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ و اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2849)»