حدیث نمبر: 15137
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى الْكُوفَةِ سَاخِطًا لِوِلَايَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ - وَهُوَ وَالِيهِ عَلَى الْعِرَاقِ - أَنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ حُسَيْنًا قَدْ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الْأَزْمَانِ ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ الْبِلَادِ ، وَابْتُلِيتَ بِهِ مِنْ بَيْنِ الْعُمَّالِ ، وَعِنْدَهَا تُعْتَقُ أَوْ تَعُودُ عَبْدًا كَمَا يُعْتَبَدُ الْعَبِيدُ . فَقَتَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْحُصَيْنِ بْنِ حِمَامٍ الْمُرِّيِّ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الضَّحَّاكَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین

ضحاک بن عثمان بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ کی طرف جانے کے لئے نکلے وہ یزید بن معاویہ کی حکومت سے اختلاف رکھتے تھے ، یزید بن معاویہ نے عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھا ، جو عراق پر اس کا مقرر کردہ گورنر تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں ۔ یہ آزمائش باقی تمام زمانوں کے مقابلے میں تمہارے زمانے میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام شہروں کے مقابلے میں تمہارے شہر میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام اہلکاروں کے مقابلے میں تمہیں اس حوالے سے آزمایا گیا ہے ، تو اس آزمائش کے نتیجے میں یا تو تم آزاد ہو جاؤ گے یا پھر پہلے کی طرح بندے بن جاؤ گے جس طرح کسی غلام کو بندہ بنایا جاتا ہے ، تو عبیداللہ بن زیاد نے امام حسین کو شہید کروا دیا ، اس نے امام حسین کا سر یزید کو بھجوایا ، جب امام حسین کا سر اس کے آگے رکھا گیا تو اس نے حصین بن حمام مری کے یہ اشعار مثال کے طور پر پڑھے : ” ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ضحاک نامی راوی نے اس معاملے کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15137
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2846)»