حدیث نمبر: 15130
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى أَرْضِ [ الْعِرَاقِ ] ، أَرَادَ أَنْ يَلْقَى ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ فِي أَرْضٍ لَهُ ، فَأَتَاهُ لِيُوَدِّعَهُ ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي أُرِيدُ الْعِرَاقَ ، فَقَالَ : لَا تَفْعَلْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا أَوْ نَبِيًّا عَبْدًا ، فَقِيلَ لِي : تَوَاضَعْ ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا " . ¤ وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا نَخْرُجُ . قَالَ : فَأَبَى ، فَوَدَّعَهُ وَقَالَ : أَسَتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ مَقْتُولٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے عراق کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مل لیں اور ان سے مشورہ لے لیں ، انہیں بتایا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو اپنی زمین پر موجود ہیں ۔ وہ ان سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا : میں عراق جانا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ ایسا نہ کریں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اس بارے میں اختیار دیا گیا کہ میں ایک بادشاہ نبی بنوں یا ایک بندہ نبی بنوں تو مجھ سے کہا: گیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو میں نے اس چیز کو اختیار کیا کہ میں ایک بندہ نبی بنوں ۔ “ اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جان کے ٹکڑے ہیں ، تو آپ نہ جائیں ، راوی کہتے ہیں : لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رخصت کرتے ہوئے یہ کہا: مقتول ہونے کے حوالے سے میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2644 و 2643) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (601)»