حدیث نمبر: 15131
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَّكْتُ بِيَدَيَّ فِي رَأْسِكَ ، فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ : لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . قَالَ : فَذَلِكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے روانگی کے بارے میں اجازت مانگی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ عمل میرے یا آپ کے لیے اعتراض کا نشانہ بننے کا باعث بن جائے گا ، تو میں نے اپنی انگلیاں آپ کے سر میں پیوست کر دینی تھیں ، تو انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے یہ کہا: اگر میں فلاں فلاں جگہ پر شہید ہو جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میری وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کے حرم کی بے حرمتی کی جائے ، راوی کہتے ہیں : تو اس طرح انہوں نے اپنے طرز عمل کی توجیہ پیش کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2859)»