حدیث نمبر: 15129
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الْحُسَيْنُ جَالِسًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ ؟ فَقَالَ : " وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُ وَهُوَ ثَمَرَةُ فُؤَادِي ؟ " . فَقَالَ : أَمَّا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، أَلَا أُرِيكَ مِنْ مَوْضِعِ قَبْرِهِ ؟ فَقَبَضَ قَبْضَةً ، فَإِذَا تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس سے کیوں محبت نہ کروں ؟ جبکہ یہ میرے دل کا پھل ہے ( یعنی میرے جگر کا ٹکڑا ہے ) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : آپ کی امت اسے قتل کر دے گی ، کیا میں آپ کو اس کی قبر کی جگہ نہ دکھاؤں ؟ پھر انہوں نے مٹھی بھر مٹی لی تو وہ سرخ رنگ کی مٹی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2640)»