مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجِيَّةَ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي ؟ قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : أَمَّا حَسَنٌ ، فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخِوَانٍ ، وَفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةُ عُصْفُورٍ . وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، فَصَاحِبُ لَهْوٍ ، وَظِلٍّ ، وَبَاطِلٍ ، وَلَا يَغُرَنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ . وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ ، فَأَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ ، وَفَسَادِكُمْ فِي أَرْضِكُمْ ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وَخِيَانَتِكُمْ ، وَبِطَوَاعِيَّتِهِمْ إِمَامَهُمْ ، وَمَعْصِيَتِكُمْ لَهُ ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ ، وَتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ ، تَطُولُ دَوْلَتُهُمْ حَتَّى لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ ، وَلَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ ، وَحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ ; إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ ، وَإِذَا غَابَ سَبَّهُ ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنًّا ، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِالْعَافِيَةِ فَاقْبَلُوا ، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا ; فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤مسیب بن نجیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں بطور خاص اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہم نے کہا: جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو وہ پیالوں اور خوان والا شخص ہے ، وہ مرد آدمی ہے ، لیکن وہ جنگ میں تمہارے کام نہیں آ سکتا ، جہاں تک عبداللہ بن جعفر کا تعلق ہے ، تو وہ لہو کی طرف متوجہ ہونے والا ، صائم رہنے والا ، باطل والا شخص ہے ، اور عباس کے دو بیٹے تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ، جہاں تک میرا اور حسین کا تعلق ہے تو ہم تم لوگوں سے ہیں ، اور تم ہم لوگوں سے ہو ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سرزمین پر بھلائی کو گھمائیں گے اور تمہاری سرزمین پر فساد ڈالیں گے ، یوں کہ وہ امانت ادا کریں گے اور تم خیانت کرو گے ، وہ اپنے حکمران کے فرمانبردار ہوں گے اور تم اپنے حکمران کی نافرمانی کرو گے ، وہ اپنے باطل پر اکٹھے ہوں گے اور تم اپنے حق پر اختلاف کا شکار ہو گے ، ان کی حکومت طویل ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی ہر چیز کو حلال قرار دیں گے ، ہر کچے اور پکے گھر میں ان کا ظلم داخل ہو جائے گا ، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ان کا تابع ہو جائے گا ، جس طرح کوئی غلام اپنے آقا کی مدد کرتا ہے ، جب وہ سامنے موجود ہو گا تو اس کی اطاعت کرے گا اور جب وہ سامنے موجود نہیں ہو گا تو اس کو برا کہے گا ، یہاں تک کہ اس صورتحال میں تم میں سے سب سے زیادہ لاتعلق وہ شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ اچھا گمان رکھتا ہو ، اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت نصیب کرے تو تم قبول کر لینا اور اگر تم آزمائش کا شکار ہو جاؤ ، تو تم صبر سے کام لینا ، کیونکہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔