حدیث نمبر: 15127
وَعَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ قَالَ : صَحِبْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ ؟ قَالُوا : إِذًا نُبْلِي اللَّهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ! لَيَنْزِلَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ وَلَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلْتَقْتُلُنَّهُمْ ، ثُمَّ أَقْبَلُ يَقُولُ : ¤ هُمْ أَوْرَدُوهُ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا أَحَبُّوا نَجَاهُ لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ مُتَأَخِّرٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوہبیرہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کوفہ آئے وہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان آئے گی ؟ لوگوں نے کہا: ایسی صورت میں ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ تمہارے درمیان آئے گا ، تو تم لوگ نکل کر ان کی طرف جاؤ گے ، اور انہیں قتل کر دو گے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھنا شروع کیا : ” وہ اس کو دھوکے کے مقام پر لے آئے اور وہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تو انہوں نے یہ خواہش کی کہ اس کو نجات دلوا دیں ، لیکن نجات یا معذرت کی کوئی صورت نہیں رہی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن وہب ہے ، جو بعد کے زمانے کا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2823)»