حدیث نمبر: 15125
وَعَنْ شَيْبَانَ بْنِ مُخَرَّمٍ - وَكَانَ عُثْمَانِيًّا - قَالَ : إِنِّي لَمَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِذْ أَتَى كَرْبَلَاءَ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ شَهِيدٌ لَيْسَ مِثْلُهُ شُهَدَاءُ إِلَّا شُهَدَاءَ بَدْرٍ ، فَقُلْتُ : بَعْضُ كِذْبَاتِهِ ، وَثَمَّ رِجْلُ حِمَارٍ مَيِّتٍ ، فَقُلْتُ لِغُلَامِي : خُذْ رِجْلَ هَذَا الْحِمَارِ ، فَأَوْتِدْهَا فِي مَقْعَدِهِ ، وَغَيِّبْهَا ، فَضَرَبَ الظَّهْرَ ضَرْبَةً ، فَلَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْطَلَقْتُ وَمَعِي أَصْحَابِي ، فَإِذَا جُثَّةُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى رِجْلِ ذَلِكَ الْحِمَارِ ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ رُبَضَةٌ حَوْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شیبان بن مخرم ، جو عثمانی تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کربلا آئے تو انہوں نے فرمایا : اس مقام پر ایک شخص شہید کیا جائے گا ، اس طرح کا شہید اور کوئی نہیں ہو گا البتہ شہداء بدر کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے سوچا شاید یہ کوئی غلط بیانی ہے ، وہاں ایک مردہ گدھے کی ٹانگ پڑی ہوئی تھی ، میں نے اپنے غلام کو کہا: تم اس گدھے کی ٹانگ کو لو اور اسے اس کے مقعد میں گاڑ دو اور اس میں چھپا دو اور پھر اس کی پشت پر ضرب لگانا ، راوی کہتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہا تھا ، وہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی لاش اس گدھے کی ٹانگ کے پاس پڑی ہوئی تھی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ارگرد پڑی ہوئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2826)»