مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ، فَقَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ ، فَأَطِيعُونِي مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، أَتَتْكُمُ الْمَوْتَةُ ، أَتَتْكُمْ بِالرُّوحِ وَالرَّاحَةِ ، كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ . أَتَتْكُمْ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، كُلَّمَا ذَهَبَ رَسْلٌ جَاءَ رَسْلٌ ، تَنَاسَخَتِ النُّبُوَّةُ ; فَصَارَتْ مُلْكًا رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا ، وَخَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَهَا ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ وَأَحْصِ " . قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُ خَمْسًا قَالَ : " يَزِيدُ ، لَا بَارَكَ اللَّهُ فِي يَزِيدَ " . ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " نُعِيَ إِلَيَّ حُسَيْنٌ ، وَأُتِيتُ بِتُرْبَتِهِ ، وَأُخْبِرْتُ بِقَاتِلِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقْتُلُوهُ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ قَوْمٍ لَا يَمْنَعُوهُ إِلَّا خَالَفَ اللَّهُ بَيْنَ صُدُورِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَأَلْبَسَهُمْ شِيَعًا " . قَالَ : " وَاهًا لِفِرَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ خَلِيفَةٍ يُسْتَخْلَفُ مُتْرَفًا ، يَقْتُلُ خَلَفِي وَخَلَفَ الْخَلَفِ ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ " . فَلَمَّا بَلَغْتُ عَشْرَةً قَالَ : " الْوَلِيدُ اسْمُ فِرْعَوْنَ ، هَادِمُ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ ، بَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُسِلُّ اللَّهُ سَيْفَهُ ، فَلَا غِمَادَ لَهُ ، وَاخْتَلَفَ فَكَانُوا هَكَذَا " . فَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ يَكُونُ مَوْقَتٌ سَرِيعٌ - وَقَتْلٌ ذَرِيعٌ - فَفِيهِ هَلَاكُهُمْ ، وَيَلِي عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ نے فرمایا : ” میں محمد ہوں ، مجھے کام کے فواتح اور اس کے خواتم عطا کیے گئے ہیں ، تو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم لوگ میری اطاعت کرو اور جب میری رخصتی ہو جائے تو تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام قرار دو ۔ تمہارے پاس آرام آئے گا ، تمہارے پاس راحت آئے گی ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے ، تمہارے پاس فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جب ایک قسم کا فتنہ چلا جائے گا ، تو دوسرا آ جائے گا ، نبوت ختم ہو چکی ہے ، بادشاہی آ جائے گی ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اس کے حق کے ہمراہ اسے لیتا ہے ، اور اس سے اسی طرح نکلتا ہے جس طرح اس میں داخل ہوا تھا : اے معاذ ! تم پکڑو اور گنتی کرو ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نام گنوانے شروع کیے : ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں فرد پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یزید ، اللہ تعالیٰ یزید میں برکت نہ رکھے ، پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، پھر آپ نے فرمایا : مجھے حسین کے قتل ہونے کی اطلاع دی گئی اور وہاں کی مٹی میرے پاس لائی گئی اور اس کے قاتل کے بارے میں مجھے بتایا گیا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جن لوگوں کے درمیان اسے قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں اور سینوں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ، اور ان کے بدترین لوگوں کو ان پر مسلط کر دے گا ، اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آل محمد کے بچوں کے لیے اس خلیفہ کے حوالے سے افسوس ہے ، جسے زیادتی کرنے والے کے طور پر خلیفہ بنایا جائے گا ، وہ میری اولاد کو اور میری اولاد کی اولاد کو قتل کرے گا ، اے معاذ ! تم گنتی کرو ! پھر جب آپ بارہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : ولید ہو گا ، یہ فرعون کا نام ہے ، وہ شخص اسلام کے شرعی احکام کو منہدم کرنے والا ہو گا اس کے سامنے اس کے اہل بیت کا ایک فرد ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تلوار کو میان سے نکال لے گا ، تو پھر وہ میان میں نہیں جائے گی ، وہ لوگ اسی طرح رہیں گے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور پھر ارشاد فرمایا : ایک سو بیس کے بعد ایسا وقت ایسا آئے گا کہ جس میں وقت تیزی سے گزرے اور قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو گی اس زمانے میں ان لوگوں کی ہلاکت ہو جائے گی اور اس وقت ان لوگوں پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔