حدیث نمبر: 15119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ : " لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ " . يَعْنِي حُسَيْنًا قَالَ : وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّاخِلَ ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " لَا تَدَعِي أَحَدًا أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ " . فَجَاءَ الْحُسَيْنُ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَاحْتَضَنَتْهُ ، وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسَكِّتُهُ ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي ؟ " . قَالَ : نَعَمْ يَقْتُلُونَهُ ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً فَقَالَ : بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا ، كَاسِفَ الْبَالِ مَغْمُومًا ، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا : " لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ " . وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيْكَ ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا ، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا " . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ ، فَقَالَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَهُمْ مُؤْمِنُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ " . وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا : اس بچے کو رونے نہ دینا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مخصوص باری کا وقت تھا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور آپ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم کسی کو میرے پاس اندر نہ آنے دینا ، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ آ گئے ، جب انہوں نے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکڑ لیا اور گود میں اٹھا لیا وہ انہیں چپ کروانے لگیں ، لیکن جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں چھوڑ دیا ، وہ اندر داخل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جا کے بیٹھ گئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ مجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود اسے قتل کر دیں گے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مٹی لی اور بتایا : فلاں فلاں جگہ پر ایسا ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور آپ پریشان تھے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمجھیں کہ شاید وہ بچے کے اپنے پاس آنے کی وجہ سے غصے میں ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، آپ نے ہم سے یہ کہا: تھا کہ تم اس بچے کو رونے نہ دینا ، اور پھر آپ نے مجھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ میں کسی کو آپ کے پاس نہ آنے دوں ، یہ آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا ، آپ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت اس کو قتل کر دے گی ، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بے تکلف تھے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا وہ مومن ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اور یہ اس کی تربت ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہ مٹی دکھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8096)»