مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ " . فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَدَخَلَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : هُوَ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِيهِ " . فَجَعَلَ يَعْلُو رَقَبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَعْبَثُ بِهِ ، وَالْمَلَكُ يَنْظُرُ ، فَقَالَ الْمَلَكُ : أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ " . قَالَ : أَمَا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ . فَقَالَ بِيَدِهِ فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي خِمَارِهَا ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ التُّرَابَ مِنْ كَرْبَلَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بارش کے فرشتے نے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے ، اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : تم کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر داخل ہو گئے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ حسین ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چڑھ گئے اور آپ کے ساتھ کھیلنے لگے ، فرشتہ یہ چیز دیکھ رہا تھا ، فرشتے نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں ، فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے عنقریب قتل کر دے گی ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کی جگہ دکھا دیتا ہوں ، پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں کچھ مٹی لی ، وہ مٹی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لے لی تھی اور اسے اپنی چادر میں باندھ لیا تھا ، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ مٹی کربلا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔