مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا ، وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ ، فَحَبَا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ عَلَى بَطْنِهِ ، فَوَضَعَ ذَكَرِهِ فِي سُرَّتِهِ فَبَالَ ، قُلْتُ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِي ابْنِي " . فَلَمَّا قَضَى بِوَلَهُ ، أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ يُصَبُّ مِنَ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ " . قَالَتْ : ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَاحْتَضَنَهُ ، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ وَضَعَهُ ، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهُ ، فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ الْيَوْمَ شَيْئًا مَا رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي يُقْتَلُ ، قُلْتُ : فَأَرِنِي إِذًا ، فَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ حَمْرَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سوئے ہوئے تھے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے میں ان سے غافل ہوئی ، تو وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ کے پیٹ پر چڑھ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، میں اٹھ کر آپ کے پاس آئی اور انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے ہٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بیٹے کو رہنے دو ، جب انہوں نے پیشاب مکمل کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن لے کے اس پر چھڑک دیا ، آپ نے فرمایا : لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔ “ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، آپ نے انہیں اٹھایا ہوا تھا جب آپ رکوع یا سجدے میں جاتے تھے تو انہیں زمین پر کھڑا کر دیتے تھے ، جب اٹھتے تھے تو پھر اٹھا لیتے تھے ، جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کرنا شروع کی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جو میں نے آپ کو پہلے کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا ، میں نے کہا: تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ ! تو وہ میرے پاس سرخ مٹی لے کے آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔