مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي قَالَ : " لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ " . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي ، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ ، فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَتُحِبُّهُ ؟ قُلْتُ : أَمَّا فِي الدُّنْيَا فَنَعَمْ . قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلَ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : كَرْبَلَاءُ ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ مِنْ تُرْبَتِهَا " . فَأَرَاهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أُحِيطُ بِحُسَيْنٍ حِينَ قُتِلَ قَالَ : مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ ؟ قَالُوا : كَرْبَلَاءُ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ; كَرْبٌ وَبَلَاءٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : کوئی میرے پاس نہ آنے پائے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں انتظار کرتی رہی ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز سنی ، میں نے جھانک کے دیکھا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ان کے آنے کا مجھے پتہ نہیں چلا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا جبرائیل ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے اس نے دریافت کیا : کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ، میں نے جواب دیا : جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو جی ہاں ! تو جبرائیل نے بتایا : آپ کی امت اسے ایسی سرزمین پر قتل کر دے گی ، جس کا نام کربلا ہے ، پھر جبرائیل نے وہاں کی مٹی لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی ، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر گھیر لیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے ، تو انہوں نے دریافت کیا : اس جگہ نام کیا ہے ، لوگوں نے بتایا کربلا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے ۔