حدیث نمبر: 15114
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَنَزَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُنْكَبٌّ ، وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، وَمَا لِي لَا أُحِبُّ ابْنِي ! " . قَالَ : فَإِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ مِنْ بَعْدِكَ ، فَمَدَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَدَهُ ، فَأَتَاهُ بِتُرْبَةٍ بَيْضَاءَ ، فَقَالَ : فِي هَذِهِ الْأَرْضِ يُقْتَلُ ابْنُكَ هَذَا ، وَاسْمُهَا الطَّفُّ ، فَلَمَّا ذَهَبَ جِبْرِيلُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْتَزَمَهُ فِي يَدِهِ يَبْكِي ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي حُسَيْنًا مَقْتُولٌ فِي أَرْضِ الطَّفِّ ، وَأَنَّ أُمَّتِي سَتُفْتَنُ بَعْدِي " . ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عَلِيٌّ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَعَمَّارٌ ، وَأَبُو ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالُوا : مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : أَنَّ ابْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بَعْدِي بِأَرْضِ الطَّفِّ ، وَجَاءَنِي بِهَذِهِ التُّرْبَةِ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا مَضْجَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَأَوَّلُهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ حُسَيْنًا عَلَى فَخِذِهِ ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکایا ہوا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے ، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل میں اپنے بیٹے سے کیوں نہ محبت رکھوں ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : آپ کے بعد آپ کی امت عنقریب اسے شہید کر دے گی پھر سیدنا جبرائیل نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سفید رنگ کی مٹی لے کے آنے ، انہوں نے بتایا : اس سرزمین پر آپ کے بیٹے کو شہید کیا جائے گا ، اور اس جگہ کا نام طف ہے ، جب سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھا کر ساتھ لپٹایا ہوا تھا اور رو رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ ! جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا ، اور میرے بعد میری امت آزمائش کا شکار ہو جائے گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا حذیفہ ، سیدنا عمار ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہم موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو میرے بعد طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا ، وہ میرے پاس یہ مٹی لے کے آئے تھے ۔ انہوں نے بتایا : اس جگہ پر اس کی شہادت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی زانوں پر بٹھایا ہوا تھا اسی دوران سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور معجم اوسط کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2814)»