مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنْ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ صَاحِبَ مُطْهَرَتِهِ ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ ، فَنَادَى عَلِيٌّ : اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ . قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، وَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ ؟ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ ؟ قَالَ : " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلُ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ " . قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ لَكَ أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَمَدَّ يَدَهُ ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَمْ يَنْفَرِدْ نُجَيٌّ بِهَذَا . ¤نجی حضرمی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طہارت کے پانی کے نگران تھے جب یہ لوگ نینوا کے مقام پر پہنچے یہ لوگ اس وقت صفین کی طرف جا رہے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا: اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا ، اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا ، یہ دریائے فرات کی بات ہے ، میں نے دریافت کیا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے ، کیا وجہ ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس سے اٹھ کے گیا ہے اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے پر قتل کر دیا جائے گا ، اس نے کہا: کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کو وہاں کی مٹی سونگھاؤں ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو اس فرشتے نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی بھر مٹی لی اور وہ مجھے دے دی تو مجھے اپنی آنکھوں پر ق ابونہیں رہا اور وہ بہنے لگیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، نجی نامی راوی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے ۔