حدیث نمبر: 15111
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ مَلَكَ الْقَطْرِ اسْتَأْذَنَ [ رَبَّهُ ] أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " امْلُكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ " . قَالَ : وَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ ، فَوَثَبَ فَدَخَلَ ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِنْكَبِهِ ، وَعَلَى عَاتِقِهِ ، قَالَ : فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : [ أَمَا ] إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ بِهِ . فَضَرَبَ بِيَدِهِ ، فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا . قَالَ ثَابِتٌ : بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم دروازے کا دھیان رکھنا ، کوئی ہمارے پاس نہ آئے ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما آئے انہوں نے اندر آنے کی کوشش کی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکا ، لیکن وہ اچھل کر اندر آ گئے اور آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت اور کندھوں اور گردن پر بیٹھنے لگے ، راوی کہتے ہیں : اس فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے شہید کر دے گی ، اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دیتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا ، پھر اس فرشتے نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سرخ رنگ کی مٹی لے آیا ( راوی کہتے ہیں : ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی تھی اور اسے اپنی تھیلی میں باندھ لیا تھا ۔ ثابت نامی راوی کہتے ہیں : ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ مٹی کربلا کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3402) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2813) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 242/3»