حدیث نمبر: 15097
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ ، أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ حَتَّى رَكِبَا عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا سَلَّمَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَقْبَلَ الْحَسَنُ ، فَحَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَجِدَّةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمًّا وَعَمَّةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أَبًا وَأُمًّا ؟ [ هُمَا ] الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ . ¤ جَدُّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ ، وَرُقَيَّةُ ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَأُمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی جب آپ چوتھی رکعت میں تھے ، تو حسن اور حسین آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو آپ نے ان دونوں کو اپنے سامنے کھڑا کیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں اٹھایا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں کندھے پر بیٹھ گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں کندھے پر بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا میں تمہیں لوگوں میں نانا اور نانی کے حوالے سے سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کیا میں تمہیں سب سے بہتر کے بارے میں نہ بتاؤں جو چچا اور پھوپھی کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماموں اور خالہ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، وہ دو افراد حسن اور حسین ہیں ، ان دونوں کے نانا اللہ کے رسول ہیں ، ان دونوں کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں ، ان دونوں کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ ہے ، ان دونوں کا باپ علی بن ابوطالب ہے ، ان دونوں کا چچا جعفر بن ابوطالب ہے ، ان دونوں کی پھوپھی اُم ہانی بنت ابوطالب ہے ، ان دونوں کے ماموں قاسم ہیں جو اللہ کے رسول کے صاحبزادے ہیں ، اور ان کی دونوں کی خالائیں زینب ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ، جو اللہ کے رسول کی صاحبزادیاں ہیں ، ان دونوں کے نانا جنت میں ہوں گے ، ان دونوں کا باپ جنت میں ہو گا ۔ ان دونوں کی ماں جنت میں ہو گی ، ان دونوں کے چچا جنت میں ہوں گے ، ان دونوں کی پھوپھی جنت میں ہو گی ، ان دونوں کی خالائیں جنت میں ہوں گی ، یہ دونوں جنت میں ہوں گے ، اور جو شخص ان سے محبت رکھے گا ، وہ بھی جنت میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی أحمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15097
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2682)»