مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ . باب: اس چیز کا بیان ، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْجُدُ ، فَيَجِيءُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَيَرْكَبُ ظَهْرَهُ ، فَيُطِيلُ السُّجُودَ ، فَيُقَالُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ ! فَيَقُولُ : " ارْتَحَلَنِيَ ابْنِي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آتے اور آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کو طول دیدیتے تھے ۔ عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے سجدے کو طول دے دیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا ، تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اسے جلدی ( اتار دوں ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔