حدیث نمبر: 15076
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا ، وَيَضَعُهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا عَادَ عَادَا ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ . قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرُدُّهُمَا ؟ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ ، فَقَالَ لَهُمَا : " الْحَقَا بِأُمِّكُمَا " . قَالَ : فَمَكَثَ ضَوْؤُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے ، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر چڑھ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ نے ان دونوں کو پیچھے سے پکڑا ، آپ نے انہیں نرمی سے پکڑا اور انہیں اپنی پشت سے ہٹا دیا ، جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے ، تو ان دونوں صاحبزادوں نے دوبارہ یہی حرکت کی ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا ، راوی کہتے ہیں : میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ان دونوں کو واپس چھوڑ آؤں ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بجلی چمکی ( یا روشنی سی ہوئی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ ! راوی کہتے ہیں : تو وہ روشنی اس وقت تک رہی ، جب تک وہ دونوں اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک تاریک رات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2630 و 2629) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (513/2)»