مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأُخْرِجَ بِسَرِيرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَأَرَادَ أَنْ يَدْفِنَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ أَنْ يَمْنَعَهُ بَنُو أُمَيَّةَ ، فَلَمَّا انْتَهَوْا بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ قَامَتْ بَنُو أُمَيَّةَ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنْ مَنَعُونِي فَادْفِنُونِي مَعَ أُمِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤شرحبیل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی چارپائی ( یعنی میت کی چارپائی ) کو باہر نکالا ، ان کا یہ ارادہ تھا کہ ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کروائیں ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ بنوامیہ انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے ، جب وہ ان کی میت لے کے مسجد تک آئے ، تو بنوامیہ کھڑے ہو گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایا : میں نے ان صاحب کو ( یعنی سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو ) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر لوگ منع کریں تو تم مجھے میری والدہ کے ساتھ دفن کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔