مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ ; لَعَلِّي أَتَفَكَّرُ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ - يَعْنِي الْآيَاتِ - فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ ; فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ رَقَبَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَسَنِ فِيمَا أَعْلَمُ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ أَنْسٍ فِيمَا قِيلَ . ¤رقبہ بن مصقلہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا آخری وقت آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نکال کر صحراء کی طرف لے جاؤ تاکہ میں غور و فکر کروں اور آسمانوں میں موجود نشانیوں کا جائزہ لوں ، جب انہیں لے جایا گیا تو انہوں نے یہ کہا: ” اے اللہ ! میں اپنی ذات کے بارے میں تیری بارگاہ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں کیونکہ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز ذات ہے “ تو وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ذات کا احتساب کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ رقبہ نامی راوی نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، جو میرے علم کے مطابق ہے ، ایک قول کے مطابق انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے ۔