حدیث نمبر: 15055
وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - لَمَّا كُفَّ بَصَرُهُ يَقُولُ لِقَائِدِهِ : إِذَا أَدْخَلْتَنِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَدِّدْنِي لِفِرَاشِهِ ، ثُمَّ أَرْسِلْ يَدِي ؛ لَا يَشْمَتُ بِي مُعَاوِيَةُ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ يَوْمًا ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ : لَيَغْتَمَّنَّ ، فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، آجَرَكَ اللَّهُ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ؟ ! قَالَ : أَمَاتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ ، وَأَلْحَقَهُ بِصَالِحِ سَلَفِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ لَا تَسُدُّ حُفْرَتَهُ ، وَلَا تَأْكُلُ رِزْقَهُ ، وَلَا تَخْلُدُ بَعْدَهُ ، وَلَقَدْ رُزِئْنَا بِأَعْظَمَ فَقْدًا مِنْهُ ؛ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا خَذَلَنَا اللَّهُ بَعْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی جب بینائی رخصت ہو گئی ، تو وہ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے فرد سے یہ کہتے تھے کہ جب تم مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچاؤ تو مجھے ان کے بچھونے تک پہنچانا اور پھر تم میرا ہاتھ چھوڑ دینا تاکہ میرے حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اعتراض نہ ہو ، ایک دن انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی سے کہا: یہ ابھی غمگین ہو جائیں گے ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اُن کے ساتھ ان کے بچھونے پر بیٹھ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعباس ! سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ آپ کو اجر نصیب کرے ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی اُن پر نازل ہو اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے ، اللہ کی قسم ! اے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو آپ نے ان کا گڑھا بند کیا اور نہ ہی ان کا رزق کھایا اور نہ ہی آپ نے ان کے بعد ہمیشہ رہنا ہے ، اور ہمیں تو اس سے بھی زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تھا ، لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10622)»