حدیث نمبر: 15050
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَيُصْلِحَنَّ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ع اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ہزار کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2635) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1831)»