حدیث نمبر: 14972
وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَمَّا قَامُوا قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : أَتَيْتُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَتْ : تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ ، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ، أَخَذَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذٍ ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي ، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَزَادَ : " إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، سَيِّئُ الْحِفْظِ ، رَجُلٌ صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ . ¤
محمد محی الدین

شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس کچھ لوگ موجود تھے ۔ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ( اور ان پر تنقید کی ) جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے بتایا میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا میں نے ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں ، اور ان کے ساتھ حسن اور حسین ہیں ، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا ، آپ گھر کے اندر تشریف لے آئے ، آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قریب آئے ، آپ نے حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ، ان دونوں میں سے ہر ایک کو زانوں پر بٹھایا ، پھر آپ نے ان پر اپنا کپڑا ڈالا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنی چادر ڈالی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تیری طرف ! جہنم کی طرف نہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اپنی ذات کے اعتبار سے وہ ایک نیک شخص ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7486) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (/4107)»