حدیث نمبر: 14971
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَرِّكَةً الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، فِي يَدِهَا بُرْمَةٌ لِلْحَسَنِ فِيهَا سَخِينٌ ، حَتَّى أَتَتْ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قُدَّامَهُ قَالَ لَهَا : " أَيْنَ أَبُو حَسَنٍ ؟ " . قَالَتْ : فِي الْبَيْتِ ، فَدَعَاهُ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَأْكُلُونَ . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : وَمَا سَامَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَكَلَ طَعَامًا قَطُّ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ إِلَّا سَامَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - تَعْنِي سَامَنِي : دَعَانِي إِلَيْهِ - فَلَمَّا فَرَغَ ، الْتَفَّ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُمْ ، وَوَالِ مَنْ وَالَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا ، ان کے ایک ہاتھ میں ہنڈیا بھی تھی جس میں گرم کھانا موجود تھا ، وہ اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں اور انہوں نے وہ ہنڈیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : ابوالحسن کہاں ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ گھر میں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حسن و حسین بیٹھے اور کھانے لگے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مجھے کھانے کی دعوت نہیں دی حالانکہ اس سے پہلے آپ جب بھی کوئی کھانا کھاتے تھے اور میں آپ کے پاس موجود ہوتی تھی ، تو آپ مجھے کھانے کی دعوت دے دیتے تھے ، لیکن اس دن ایسا نہیں ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے ان لوگوں پر اپنا کپڑا ڈالا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! جو ان سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا اور جو ان سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6951)»