حدیث نمبر: 14966
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ : لَمَّا صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ سَمُرَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَنْزِلُوا تَحْتَهُنَّ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ ، فَقُمَّ مَا تَحْتَهُنَّ مِنَ الشَّوْكِ ، وَعَمَدَ إِلَيْهِنَّ فَصَلَّى عِنْدَهُنَّ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي يَلِيهِ مِنْ قَبْلِهِ ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ ، وَإِنِّي مَسْئُولٌ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ ، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ " . قَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ ، وَجَهَدْتَ ، وَنَصَحْتَ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ جَنَّتَهُ حَقٌّ ، وَنَارَهُ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ بِذَلِكَ . قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ ، وَأَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ " . - يَعْنِي عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ بُصْرَى إِلَى صَنْعَاءَ ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا الثَّقَلُ الْأَكْبَرُ : كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، لَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا . وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ متفرق درختوں کے نیچے نہ جائیں اور ان کے نیچے جا کے پڑاؤ نہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ تم لوگ اٹھو اور ان درختوں کے نیچے صفائی کرو ، پھر بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کی طرف گئے ، آپ نے وہاں نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے جس بھی نبی کو دنیا میں بھیجا تو اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی کی عمر سے نصف ہوتی تھی ، میرا یہ خیال ہے کہ عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا مجھ سے بھی حساب لیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی حساب لیا جائے گا ، تو تم لوگ کیا کہو گے ؟ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی ، بھرپور کوشش کی ، خیرخواہی کی ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور جنت حق ہے ، اور جہنم حق ہے ، اور موت حق ہے ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا حق ہے ، اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! تو گواہ ہو جاؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولیٰ ہوں اور میں ان کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں ، تو جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، وہ ایسا حوض ہے جو بصریٰ سے لے کر صنعاء تک کے درمیان فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے ، اور اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی سے بنے ہوئے پیالے ہیں ، اور جب تم لوگ حوض پر میرے پاس آؤ گے ، تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو گے کہ تم میرے بعد ان دو چیزوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ ان میں بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ، تم گمراہ نہیں ہو گے ، اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت میرے اہل بیت ہیں ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف