مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا ، فَإِذَا فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عِنْدَ رَأْسِهِ . قَالَ : فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ ؟ " . فَقَالَتْ : أَخْشَى الضَّيْعَةَ بَعْدَكَ ، فَقَالَ : " يَا حَبِيبَتِي ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً ، فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ ، فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً ، فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ ، وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ يَا فَاطِمَةُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ تُعْطَ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ، وَلَا تُعْطَى أَحَدًا بَعْدَنَا : أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا أَبُوكِ ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَهُوَ بَعْلُكِ ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَمُّ بَعْلِكِ ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا . يَا فَاطِمَةُ ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرَجًا ، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا ، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ ، وَقُلُوبًا غُلْفًا ، يَقُومُ بِالدِّينِ آخِرَ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا . يَا فَاطِمَةُ ، لَا تَحْزَنِي وَلَا تَبْكِي ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْحَمُ بِكِ ، وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي ، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنْ قَلْبِي ، وَزَوَّجَكِ اللَّهُ زَوْجًا وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا ، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا ، وَأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَأَبْصَرُهُمْ بِالْقَضِيَّةِ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي " . ¤ قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا ، حَتَّى أَلْحَقَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤علی بن علی ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس بیماری کے آخرت میں آپ کا وصال ہو گیا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے موجود تھیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری محبوب شخصیت ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جھانک کر دیکھا اور ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا پھر اس نے ایک مرتبہ جھانک کر دیکھا اور اہل زمین میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کیا اور اس نے میری طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ۔ اے فاطمہ ! ہم اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، اور ہمارے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوں ، میں تمہارا باپ ہوں اور میرا وصی تمام اوصیاء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا شوہر ہے ، اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہداء سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا چچا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہے جو تمہارے شوہر کا بھی چچا ہے ، اور ہم میں سے ایک شخص وہ ہے جس کے دو سبز پر ہیں ۔ وہ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ جہاں چاہے اڑ کے چلا جاتا ہے ، اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد ہے ، اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے ، اور ہم میں سے اس امت کے دو ” سبط “ ( نواسے ) ہیں ، اور وہ دونوں تمہارے بیٹے حسن اور حسین ہیں ۔ وہ دونوں اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے ، اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے : اے فاطمہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ان دونوں کی اولاد میں سے اس امت میں مہدی آئے گا ، جس وقت دنیا میں قتل و غارت گری عام ہو چکی ہو گی ، فتنے ظاہر ہو چکے ہوں گے ، راستے بند ہو چکے ہوں گے ، لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہوں گے ، اس وقت کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا ، اور کوئی چھوٹا کسی بڑے کی تعظیم نہیں کرے گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے مہدی کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کر دے گا ، بند دلوں کو کھول دے گا ، اور آخری زمانے میں دین کو یوں قائم کرے گا ، جس طرح میں نے ابتدائی زمانے میں اس کو قائم کیا تھا ، وہ دنیا کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ، اے فاطمہ ! تم غمگین نہ ہو اور تم روؤ نہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ تمہارے بارے میں مہربان اور زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے دل میں جو تمہاری جگہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری شادی ایسے شخص کے ساتھ کی ہے ، جو تمہارے گھرانے میں حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز ہے ، اور منصب کے اعتبار سے سب سے زیادہ عزت والا ہے ، رعایا کے لئے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، سب سے بہترین طریقے سے انصاف کرنے والا ہے ، عدالتی فیصلوں کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف پچھتر دن زندہ رہی تھیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ منکر الحدیث ہے اور اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔