حدیث نمبر: 14965
وَفِي رِوَايَةٍ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ ، أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمِّمْنَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : " كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ " . ¤ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ وَفِي سَنَدِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي : حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا ، وہاں آپ کے حکم کے تحت درختوں کے نیچے جھاڑو دی گئی ، پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : یوں لگتا ہے جیسے مجھے بلا لیا جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس وقت اس مقام پر جو بھی فرد موجود تھا وہ اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں کانوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سن رہا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اور ترمذی میں اس میں سے
یہ روایت مذکور ہے : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے پہلی اور دوسری سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف