مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ شَيْخٍ قَدِمَ مِنَ الْمَوْصِلِ قَالَ : صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ بِأَرْضٍ قَفْرٍ ، فَقَالَ : اسْتُرْنِي ، فَسَتَرْتُهُ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ ، فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ أَثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ ! قَالَ : وَقَدْ رَأَيْتَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالشَّيْخُ الْمَوْصِلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤موصل سے آنے والے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہیں ایک بے آب و گیاہ جگہ پر جنابت لاحق ہو گئی ، تو انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے پردہ کرو ، میں نے ان کے لئے پردہ کیا ، جب میں نے ان کے جسم پر دیکھا ، تو میں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر تلواروں کے بہت سے سارے نشان ہیں ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ پر بہت سارے نشانات دیکھ رہا ہوں ، اتنے نشانات میں نے کبھی کسی پر نہیں دیکھے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے وہ دیکھ لیے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان میں سے ہر ایک زخم اللہ کے رسول کے ( ہمراہ جنگ کرتے ہوئے ) اور اللہ کی راہ میں لگا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موصل سے تعلق رکھنے والے بزرگ سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔