عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : دَعَاهُمْ عَلِيٌّ إِلَى الْبَيْعَةِ فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا يَحْبِسُ أَشْقَاهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ : ¤ اشْدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلَمَوْ تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيكَ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ بِوَادِيكَ ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا ، ان آنے والے لوگوں میں ایک شخص عبدالرحمن بن ملجم بھی تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسے دیکھ چکے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ( امت ) کے بدنصیب ترین شخص کو کس چیز نے روکا ہوا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مثال کے طور پر یہ دو اشعار پڑھے : ” اپنے اعضاء کو موت کے لیے باندھ لو ، کیونکہ موت تمہارے پاس آ ہی جائے گی ، اور موت کے حوالے سے اضطراب کا شکار نہ ہو ، کیونکہ موت تمہاری منزل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔