حدیث نمبر: 14789
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : دَعَاهُمْ عَلِيٌّ إِلَى الْبَيْعَةِ فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا يَحْبِسُ أَشْقَاهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ : ¤ اشْدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلَمَوْ تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيكَ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ بِوَادِيكَ ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا ، ان آنے والے لوگوں میں ایک شخص عبدالرحمن بن ملجم بھی تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسے دیکھ چکے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ( امت ) کے بدنصیب ترین شخص کو کس چیز نے روکا ہوا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مثال کے طور پر یہ دو اشعار پڑھے : ” اپنے اعضاء کو موت کے لیے باندھ لو ، کیونکہ موت تمہارے پاس آ ہی جائے گی ، اور موت کے حوالے سے اضطراب کا شکار نہ ہو ، کیونکہ موت تمہاری منزل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14789
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (169)»
حدیث نمبر: 14790
وَعَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا وَحُمِلَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، أَتَاهُ الْعُوَّادُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُلَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ ، وَالْأَجْلُ مَسَاقُ النَّفْسِ ، وَالْهَرَبُ مِنْ آفَاتِهِ ، كَمِ اطَّرَدْتُ الْأَنَامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ ، فَأَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا خَفَاءَهُ ، هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ . أَمَّا وَصِيَّتِي إِيَّاكُمْ فَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ ، أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ ، وَخَلَاكُمْ ذَمُّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا ، وَأُحَمِّلُ كُلَّ امْرِئٍ مَجْهُودَهُ ، وَخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ بِرَبٍّ رَحِيمٍ ، وَدِينٍ قَوِيمٍ ، وَإِمَامٍ عَلِيمٍ ، كُنَّا فِي رِيَاحٍ وَذُرْيِ أَغْصَانٍ ، وَتَحْتَ ظِلِّ غَمَامَةٍ اضْمَحَلَّ مَرْكَزُهَا فَيَحُطُّهَا عَلُوٌّ خَاوَرَكُمْ تَدَنِّي أَيَّامِنَا تِبَاعًا ، ثُمَّ هَوَاءً فَسَتَعْقُبُونَ مِنْ بَعْدِهِ جُثَّةً خَوَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَكَةٍ كَاظِمَةً ، بَعْدَ نُطُوقِ أَنَّهُ أَبْلَغُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنْ نُطْقِ الْبَلِيغِ ، وَدَاعِيكُمْ دَاعٍ مُرْصَدٌ لِلتَّلَاقِ ، غَدًا تَرَوْنَ أَيَّامِي ، وَيُكْشَفُ عَنْ سَرَائِرِي ، لَنْ يُحَابِيَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَنْ أَتَزَلَّفَهُ بِتَقْوًى فَيَغْفِرَ عَنْ فَرْطِ مَوْعُودٍ ، عَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَوْمَ اللِّزَامِ إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي ، وَإِنْ أَفْنَى فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي ، الْعَفْوُ لِي فَدِيَةٌ وَلَكُمْ حَسَنَةٌ ، فَاعْفُوا عَفَا اللَّهُ عَنَّا وَعَنْكُمْ " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ثُمَّ قَالَ : عِشْ مَا بَدَا لَكَ قَصْرُكَ الْمَوْتُ لَا مَرْحَلٌ عَنْهُ وَلَا فَوْتُ بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَتِهِ ¤ زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا ¤ وَلَعَلَّ مَا تُجْدِي لَنَا لَيْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عوانہ بن حکم بیان کرتے ہیں : جب عبدالرحمن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا ، تو عیادت کرنے والے لوگ ان کے پاس آنے لگے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر یہ بات بیان کی : کہ ہر آدمی کو اس صورت حال کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، جس سے وہ بھاگتا پھرتا ہے ، اور موت جان کو لے جاتی ہے ، اور بھاگنا اُس کی آفات میں سے ایک ہے ، میں کتنے عرصے تک اس مسئلے کے پوشیدہ اسرار کو جان لینے کی کوشش کرتا رہا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ وہ پوشیدہ رہے ، یہ پوشیدہ علم دور ہے ، بہرحال تم لوگوں کو میری وصیت اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہے کہ تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ہے کہ تم اُن کی سنت کو ضائع نہ کرنا ، تم لوگ ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنا اور تم پر کوئی مذمت نہیں ہو گی ، جب تک تم ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے ) روگردانی نہیں کرتے ، اور میں ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ( عمل کرنے کا ) مکلف قرار دیتا ہوں ، اور رحم کرنے والا پروردگار ، مستقیم ( یا مضبوط ) دین اور علم والے امام ( یعنی پیشوا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں جاہل ( یعنی ناواقف ) لوگوں کو ( بہت سے امور میں ) تخفیف دی گئی ہے ۔ ہم ہواؤں کی زد میں رہے اور لہراتی ہوئی ٹہنیوں میں رہے ، اور بادل کے سائے کے نیچے رہے ( یعنی ایسی حالت میں رہے جس کو ثبات اور قرار حاصل نہیں تھا ) اس ( بادل ) کا مرکز چھٹ گیا ہے ( یعنی بادل چلا گیا ) اور بلندی اس کو نیچے کی طرف لے آئی ، ہمارے ایام ایک دوسرے کے پیچھے ( تیزی سے ) گزرتے ہیں ، پھر ہوا ( یعنی فراغت یا کشادگی یا وہم ) ہے ، اور پھر اس کے بعد تمہارے سامنے خالی جسم ہو گا ، جو حرکت کے بعد ساکن اور گویائی کے بعد خاموش ہو چکا ہو گا ، عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ بات بلیغ گفتگو سے زیادہ مؤثر ہے اور تمہیں دعوت دینے والا ایسا فرد ہے جو ( اللہ تعالیٰ ) کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار ہے ، کل تم میری زندگی کا جائزہ لو گے اور میرے پوشیدہ معاملات سے پردہ ہٹے گا ، اللہ تعالیٰ مجھ پر اسی صورت میں فضل کرے گا جب میں تقویٰ ساتھ لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤں گا ، وہ مغفرت کر دے گا جس کا وعدہ ہے ، قیامت کے دن تم پر سلامتی نازل ہو ، اگر میں بچ گیا تو اپنے خون کا میں خود ولی ہوؤں گا اور اگر میں مر گیا ، ویسے مرنا تو میں نے ( کسی نہ کسی دن ) ہے ، تو ( میرے قاتل کو ) معاف کر دینا میرے حق میں فدیہ اور تمہارے حق میں بھلائی ہو گی ، تو تم لوگ معاف کر دینا ، اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے درگزر کرے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” جتنا تمہیں اچھا لگے جی لو ، تمہارا انجام بہرحال موت ہے ، جس سے کوئی مفر نہیں ہے اور وہ آ کے ہی رہے گی ( تم زندہ رہو ) گھر کی خوشحالی اور خوشی کے درمیان رہو ، آخرکار یہ خوشحالی ختم ہو جائے گی اور گھر چھوٹ جائے گا ، ہائے افسوس ! ہمارے ساتھ کیا مراد لیا گیا ہے ؟ اور ہمیں جو دیا گیا ہے ، وہ ” اے کاش “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام کلبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14790
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167)»
حدیث نمبر: 14791
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ وَأَصْحَابَهُ - : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُلْجَمٍ ، وَالْبُرَكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعُمَرَ بْنَ بَكْرٍ التَّمِيمِيَّ ، اجْتَمَعُوا بِمَكَّةَ فَذَكَرُوا أَمْرَ النَّاسِ وَعَابُوا عَلَيْهِمْ عَمَلَ وُلَاتِهِمْ ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَصْنَعُ بِالْبَقَاءِ بَعْدَهُمْ شَيْئًا ؟ إِخْوَانُنَا الَّذِينَ كَانُوا دُعَاةَ النَّاسِ لِعِبَادَةِ رَبِّهِمْ ، الَّذِينَ كَانُوا لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، فَلَوْ شَرَيْنَا أَنْفُسَنَا فَأَتَيْنَا أَئِمَّةَ الضَّلَالَةِ فَالْتَمَسْنَا قَتْلَهُمْ فَأَرَحْنَا مِنْهُمُ الْبِلَادَ ، وَثَأَرْنَا بِهِمْ إِخْوَانَنَا . قَالَ ابْنُ مُلْجَمٍ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - : أَنَا أَكْفِيكُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ . ¤ وَقَالَ الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ . ¤ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ : أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ . ¤ فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللَّهِ أَنْ لَا يَنْكُصَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَسَمُّوهَا ، اتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ وَاحِدٍ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ . ¤ وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ ، فَأَمَّا ابْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ ، وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيٌّ مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهْرِ ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ . ¤ قَالَ : وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا : قَطَامِ بِنْتُ الشِّحْنَةِ ، وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَبَاهَا وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهْرِ ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا فَخَطَبَهَا ، فَقَالَتْ : لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْفِيَنِي قَالَ : وَمَا تَشَائِينَ ؟ قَالَتْ : ثَلَاثَةُ آلَافٍ ، وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : هُوَ مَهْرٌ لَكِ ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ . قَالَتْ : بَلَى ، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي ، وَنَفَعَكَ مَعِي الْعَيْشُ ، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . فَقَالَ : مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ . قَالَتْ : فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهُ : وَرْدَانُ ، فَكَلَّمَتْهُ فَأَجَابَهَا ، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ : شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةَ ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَتْلُ عَلِيٍّ قَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؛ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا ، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ؟ قَالَ : أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا ، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . قَالَ : وَيْحَكَ ! لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ ، قَدْ عَرَفْتَ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَجِدُنِي أَشْرَحُ لِقَتْلِهِ . ¤ قَالَ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ نَقْتُلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا ، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةً فِيهِ ، فَقَالُوا لَهَا : قَدِ اجْتَمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ . قَالَ : فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَأْتُونِي ، فَقَالَ : هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبَيَّ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ ، وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَّةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ ، فَخَرَجَ [ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ] لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ أَوْ بِالطَّاقِ فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ عَلَى قَرْنِهِ وَهَرَبَ ، حَتَّى وَرَدَ أَنَّ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أُمِّهِ وَهُوَ يَنْزِعُ السَّيْفَ وَالْحَدِيدَ عَنْ صَدْرِهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَدِيدُ ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ حَتَّى قَتَلَهُ ، وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا [ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ] يُقَالُ لَهُ : عُوَيْمِرٌ ضَرَبَ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ ، فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ فَنَجَا بِنَفْسِهِ ، وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ . وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ [ أَهْلِ ] هَمَذَانَ يُكَنَّى : أَبَا أُدُمَا ، فَضَرَبَ رِجْلَهُ فَصَرَعَهُ ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ ، وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ . ¤ وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ [ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ ] فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرَةٍ مَنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ ، مَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَجَعَلَ يُنَادِي : أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ ، أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السَّيْفِ ، وَسَمِعْتُ : الْحُكْمُ لِلَّهِ لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ . فَرَأَيْتُ سَيْفًا ، وَرَأَيْتُ نَاسًا ، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ . وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ . فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي ، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي . ¤ وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ لَهُ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ ؟ قَالَ : بَلَى قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . ¤ وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، [ إِنَّهُ ] لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مُخْزِيكَ . قَالَ : فَعَلَامَ تَبْكِينَ ، وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَسَمَمْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ مِصْرَ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً ، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ . فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ : إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي ، وَلَئِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ . ¤ وَذُكِرَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقِدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ ؟ قَالَ : مَا آمُرُكُمْ وَلَا أَنْهَاكُمْ ، أَنْتُمْ أَبْصَرُ . فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ الْحَسَنُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ : هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَيْتُ بِهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا ، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَلَكَ اللَّهُ عَلَى إِنْ لَمْ أَقْتُلْهُ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : لَا وَاللَّهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ ، فَأَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارٍ ، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ . ¤ وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ تَقُولُونَ : قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا لَا يُقْتَلْ بِي إِلَّا قَاتِلِي . ¤ وَأُمًّا الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ ، وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا ، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ ؟ قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا [ فِي هَذِهِ ] اللَّيْلَةَ . قَالَ : فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ . قَالَ : بَلَى ؛ إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ فَقُتِلَ ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ - وَكَانَ طَبِيبًا - فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ ؛ إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعُهَا فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ ، وَإِمَّا أَنْ أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ وَتَبْرَأُ مِنْهَا ؛ فَإِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَمَّا النَّارُ : فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا ، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ : فَإِنَّ فِي يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَوَلَدُهُمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي . فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ فَبَرَأَ ، فَلَمْ يُولَدْ لَهُ بَعْدُ . فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ وَقِيَامِ الشُّرْطِ عَلَى رَأْسِهِ . ¤ وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : أَيْ بَنِيَّ ، أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَ[ إِقَامَ ] الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحَلِّهَا ، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ ؛ فَإِنَّهُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ . وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَاهِلِ ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ . ¤ قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ : هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ ، وَأُوصِيكَ بِتَوْقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا ، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : أُوصِيكُمَا بِهِ ؛ فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا وَابْنُ أَبِيكُمَا ، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ . ¤ ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ . ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ . ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ وَيَا حُسَيْنُ ، وَيَا جَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي ، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي : بِتَقْوَى اللَّهِ رَبِّكُمْ ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ " . ¤ وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ ، فَصِلُوهُمْ يُهَوِّنِ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الصَّلَاةِ ؛ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرَكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ ؛ فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تُظْلَمَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ " . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ أَوْصَى بِهِمْ . ¤ وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [ فِإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ ؛ النِّسَاءَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ] . ¤ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ لَا تَخَافُنَّ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ؛ اللَّهُ يَكْفِيكُمْ مَنْ أَرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ . ¤ وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؛ فَيُوَلَّى أَمْرَكُمْ شِرَارُكُمْ ، ثُمَّ تَدْعُونَ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ . ¤ عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَادُلِ ، إِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ وَالتَّدَابُرَ وَالتَّفَرُّقَ " وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ " . ¤ حَفِظَكُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ . ¤ ثُمَّ لَمْ يُنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ ، وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ . ¤ وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَعَدَ فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ - وَكَانَ نَصْرَانِيًّا - وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ وَنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ يَمْشُونَ بِجَانِبِ إِمَامِهِمْ : شَقِيقِ بْنِ ثَوْرٍ السُّلَمِيِّ ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأُخْبِرَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا ¤ فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كَفُورٍ بِمُنْكَرِ أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا ¤ جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ . ¤ وَقَالَ ابْنُ [ أَبِي ] عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ : ¤ وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ كَمَهْرِ قَطَامٍ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ¤ وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمِّمِ وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمٍ ¤ . ¤ وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ : ¤ أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ فَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشامِتِينَا أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا ¤ بِخَيْرِ الناسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا قَتَلْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا وَحَلَّسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا ¤ وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حِينَ كَانَتْ بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينَا ¤ . ¤ وَأُمَّا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ ، فَلَمْ يَخْرُجْ [ كَانَ ] وَاشْتَكَى فِيهَا بَطْنَهُ ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ حَبِيبٍ - وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ - وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ [ فَأُخِذَ ] ، وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو ، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : مَنْ قَتَلْتُ ؟ قَالُوا : خَارِجَةَ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمِدْتُ غَيْرَكَ . قَالَ عَمْرٌو : أَرَدْتَنِي وَاللَّهُ أَرَادَ خَارِجَةَ ، وَقَدَّمَهُ وَقَتَلَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ : ¤ وَقْتُكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ ¤ نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةُ لَازِبِ ¤ وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ . ¤ وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ الْحَسَنُ قَدْ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ بِإِيلَيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ ، وَخَرَجَ الْحَسَنُ حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنَ . ¤ وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ - : هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى و?",0,0,0,Yes,0,0 55417,1,55417,3,14792,,عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - الضَّرْبَةَ قَالَ : افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (168)»
حدیث نمبر: 14792
محمد محی الدین
ابویحیی بیان کرتے ہیں : جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ضرب لگائی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس کے ساتھ وہی کرنا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کیا ہے ، جسے قتل کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تم لوگ اسے قتل کر دو اور پھر اسے جلا دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ظبیان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (713)»