عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : دَعَاهُمْ عَلِيٌّ إِلَى الْبَيْعَةِ فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا يَحْبِسُ أَشْقَاهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ :
اشْدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلَمَوْ تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيكَ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ بِوَادِيكَ
.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
اشْدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلَمَوْ تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيكَ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ بِوَادِيكَ
.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا ، ان آنے والے لوگوں میں ایک شخص عبدالرحمن بن ملجم بھی تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسے دیکھ چکے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ( امت ) کے بدنصیب ترین شخص کو کس چیز نے روکا ہوا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مثال کے طور پر یہ دو اشعار پڑھے : ” اپنے اعضاء کو موت کے لیے باندھ لو ، کیونکہ موت تمہارے پاس آ ہی جائے گی ، اور موت کے حوالے سے اضطراب کا شکار نہ ہو ، کیونکہ موت تمہاری منزل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا وَحُمِلَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، أَتَاهُ الْعُوَّادُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُلَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ ، وَالْأَجْلُ مَسَاقُ النَّفْسِ ، وَالْهَرَبُ مِنْ آفَاتِهِ ، كَمِ اطَّرَدْتُ الْأَنَامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ ، فَأَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا خَفَاءَهُ ، هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ . أَمَّا وَصِيَّتِي إِيَّاكُمْ فَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ ، أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ ، وَخَلَاكُمْ ذَمُّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا ، وَأُحَمِّلُ كُلَّ امْرِئٍ مَجْهُودَهُ ، وَخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ بِرَبٍّ رَحِيمٍ ، وَدِينٍ قَوِيمٍ ، وَإِمَامٍ عَلِيمٍ ، كُنَّا فِي رِيَاحٍ وَذُرْيِ أَغْصَانٍ ، وَتَحْتَ ظِلِّ غَمَامَةٍ اضْمَحَلَّ مَرْكَزُهَا فَيَحُطُّهَا عَلُوٌّ خَاوَرَكُمْ تَدَنِّي أَيَّامِنَا تِبَاعًا ، ثُمَّ هَوَاءً فَسَتَعْقُبُونَ مِنْ بَعْدِهِ جُثَّةً خَوَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَكَةٍ كَاظِمَةً ، بَعْدَ نُطُوقِ أَنَّهُ أَبْلَغُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنْ نُطْقِ الْبَلِيغِ ، وَدَاعِيكُمْ دَاعٍ مُرْصَدٌ لِلتَّلَاقِ ، غَدًا تَرَوْنَ أَيَّامِي ، وَيُكْشَفُ عَنْ سَرَائِرِي ، لَنْ يُحَابِيَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَنْ أَتَزَلَّفَهُ بِتَقْوًى فَيَغْفِرَ عَنْ فَرْطِ مَوْعُودٍ ، عَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَوْمَ اللِّزَامِ إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي ، وَإِنْ أَفْنَى فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي ، الْعَفْوُ لِي فَدِيَةٌ وَلَكُمْ حَسَنَةٌ ، فَاعْفُوا عَفَا اللَّهُ عَنَّا وَعَنْكُمْ " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ثُمَّ قَالَ : عِشْ مَا بَدَا لَكَ قَصْرُكَ الْمَوْتُ لَا مَرْحَلٌ عَنْهُ وَلَا فَوْتُ بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَتِهِ
زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا
وَلَعَلَّ مَا تُجْدِي لَنَا لَيْتُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا
وَلَعَلَّ مَا تُجْدِي لَنَا لَيْتُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
عوانہ بن حکم بیان کرتے ہیں : جب عبدالرحمن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا ، تو عیادت کرنے والے لوگ ان کے پاس آنے لگے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر یہ بات بیان کی : کہ ہر آدمی کو اس صورت حال کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، جس سے وہ بھاگتا پھرتا ہے ، اور موت جان کو لے جاتی ہے ، اور بھاگنا اُس کی آفات میں سے ایک ہے ، میں کتنے عرصے تک اس مسئلے کے پوشیدہ اسرار کو جان لینے کی کوشش کرتا رہا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ وہ پوشیدہ رہے ، یہ پوشیدہ علم دور ہے ، بہرحال تم لوگوں کو میری وصیت اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہے کہ تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ہے کہ تم اُن کی سنت کو ضائع نہ کرنا ، تم لوگ ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنا اور تم پر کوئی مذمت نہیں ہو گی ، جب تک تم ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے ) روگردانی نہیں کرتے ، اور میں ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ( عمل کرنے کا ) مکلف قرار دیتا ہوں ، اور رحم کرنے والا پروردگار ، مستقیم ( یا مضبوط ) دین اور علم والے امام ( یعنی پیشوا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں جاہل ( یعنی ناواقف ) لوگوں کو ( بہت سے امور میں ) تخفیف دی گئی ہے ۔ ہم ہواؤں کی زد میں رہے اور لہراتی ہوئی ٹہنیوں میں رہے ، اور بادل کے سائے کے نیچے رہے ( یعنی ایسی حالت میں رہے جس کو ثبات اور قرار حاصل نہیں تھا ) اس ( بادل ) کا مرکز چھٹ گیا ہے ( یعنی بادل چلا گیا ) اور بلندی اس کو نیچے کی طرف لے آئی ، ہمارے ایام ایک دوسرے کے پیچھے ( تیزی سے ) گزرتے ہیں ، پھر ہوا ( یعنی فراغت یا کشادگی یا وہم ) ہے ، اور پھر اس کے بعد تمہارے سامنے خالی جسم ہو گا ، جو حرکت کے بعد ساکن اور گویائی کے بعد خاموش ہو چکا ہو گا ، عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ بات بلیغ گفتگو سے زیادہ مؤثر ہے اور تمہیں دعوت دینے والا ایسا فرد ہے جو ( اللہ تعالیٰ ) کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار ہے ، کل تم میری زندگی کا جائزہ لو گے اور میرے پوشیدہ معاملات سے پردہ ہٹے گا ، اللہ تعالیٰ مجھ پر اسی صورت میں فضل کرے گا جب میں تقویٰ ساتھ لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤں گا ، وہ مغفرت کر دے گا جس کا وعدہ ہے ، قیامت کے دن تم پر سلامتی نازل ہو ، اگر میں بچ گیا تو اپنے خون کا میں خود ولی ہوؤں گا اور اگر میں مر گیا ، ویسے مرنا تو میں نے ( کسی نہ کسی دن ) ہے ، تو ( میرے قاتل کو ) معاف کر دینا میرے حق میں فدیہ اور تمہارے حق میں بھلائی ہو گی ، تو تم لوگ معاف کر دینا ، اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے درگزر کرے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” جتنا تمہیں اچھا لگے جی لو ، تمہارا انجام بہرحال موت ہے ، جس سے کوئی مفر نہیں ہے اور وہ آ کے ہی رہے گی ( تم زندہ رہو ) گھر کی خوشحالی اور خوشی کے درمیان رہو ، آخرکار یہ خوشحالی ختم ہو جائے گی اور گھر چھوٹ جائے گا ، ہائے افسوس ! ہمارے ساتھ کیا مراد لیا گیا ہے ؟ اور ہمیں جو دیا گیا ہے ، وہ ” اے کاش “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام کلبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام کلبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ وَأَصْحَابَهُ - : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُلْجَمٍ ، وَالْبُرَكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعُمَرَ بْنَ بَكْرٍ التَّمِيمِيَّ ، اجْتَمَعُوا بِمَكَّةَ فَذَكَرُوا أَمْرَ النَّاسِ وَعَابُوا عَلَيْهِمْ عَمَلَ وُلَاتِهِمْ ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا نَصْنَعُ بِالْبَقَاءِ بَعْدَهُمْ شَيْئًا ؟ إِخْوَانُنَا الَّذِينَ كَانُوا دُعَاةَ النَّاسِ لِعِبَادَةِ رَبِّهِمْ ، الَّذِينَ كَانُوا لَا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، فَلَوْ شَرَيْنَا أَنْفُسَنَا فَأَتَيْنَا أَئِمَّةَ الضَّلَالَةِ فَالْتَمَسْنَا قَتْلَهُمْ فَأَرَحْنَا مِنْهُمُ الْبِلَادَ ، وَثَأَرْنَا بِهِمْ إِخْوَانَنَا . قَالَ ابْنُ مُلْجَمٍ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - : أَنَا أَكْفِيكُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .
وَقَالَ الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ .
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ : أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ .
فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللَّهِ أَنْ لَا يَنْكُصَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَسَمُّوهَا ، اتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ وَاحِدٍ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ .
وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ ، فَأَمَّا ابْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ ، وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيٌّ مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهْرِ ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ .
قَالَ : وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا : قَطَامِ بِنْتُ الشِّحْنَةِ ، وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَبَاهَا وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهْرِ ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا فَخَطَبَهَا ، فَقَالَتْ : لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْفِيَنِي قَالَ : وَمَا تَشَائِينَ ؟ قَالَتْ : ثَلَاثَةُ آلَافٍ ، وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : هُوَ مَهْرٌ لَكِ ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ . قَالَتْ : بَلَى ، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي ، وَنَفَعَكَ مَعِي الْعَيْشُ ، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . فَقَالَ : مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ . قَالَتْ : فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهُ : وَرْدَانُ ، فَكَلَّمَتْهُ فَأَجَابَهَا ، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ : شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةَ ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَتْلُ عَلِيٍّ قَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؛ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا ، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ؟ قَالَ : أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا ، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . قَالَ : وَيْحَكَ ! لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ ، قَدْ عَرَفْتَ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَجِدُنِي أَشْرَحُ لِقَتْلِهِ .
قَالَ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ نَقْتُلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا ، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةً فِيهِ ، فَقَالُوا لَهَا : قَدِ اجْتَمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ . قَالَ : فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَأْتُونِي ، فَقَالَ : هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبَيَّ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ ، وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَّةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ ، فَخَرَجَ [ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ] لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ أَوْ بِالطَّاقِ فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ عَلَى قَرْنِهِ وَهَرَبَ ، حَتَّى وَرَدَ أَنَّ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أُمِّهِ وَهُوَ يَنْزِعُ السَّيْفَ وَالْحَدِيدَ عَنْ صَدْرِهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَدِيدُ ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ حَتَّى قَتَلَهُ ، وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا [ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ] يُقَالُ لَهُ : عُوَيْمِرٌ ضَرَبَ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ ، فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ فَنَجَا بِنَفْسِهِ ، وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ . وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ [ أَهْلِ ] هَمَذَانَ يُكَنَّى : أَبَا أُدُمَا ، فَضَرَبَ رِجْلَهُ فَصَرَعَهُ ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ ، وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ .
وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ [ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ ] فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرَةٍ مَنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ ، مَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَجَعَلَ يُنَادِي : أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ ، أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السَّيْفِ ، وَسَمِعْتُ : الْحُكْمُ لِلَّهِ لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ . فَرَأَيْتُ سَيْفًا ، وَرَأَيْتُ نَاسًا ، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ . وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ . فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي ، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي .
وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ لَهُ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ ؟ قَالَ : بَلَى قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - .
وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، [ إِنَّهُ ] لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مُخْزِيكَ . قَالَ : فَعَلَامَ تَبْكِينَ ، وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَسَمَمْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ مِصْرَ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً ، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ . فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ : إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي ، وَلَئِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ .
وَذُكِرَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقِدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ ؟ قَالَ : مَا آمُرُكُمْ وَلَا أَنْهَاكُمْ ، أَنْتُمْ أَبْصَرُ . فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ الْحَسَنُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ : هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَيْتُ بِهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا ، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَلَكَ اللَّهُ عَلَى إِنْ لَمْ أَقْتُلْهُ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : لَا وَاللَّهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ ، فَأَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارٍ ، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ .
وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ تَقُولُونَ : قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا لَا يُقْتَلْ بِي إِلَّا قَاتِلِي .
وَأُمًّا الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ ، وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا ، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ ؟ قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا [ فِي هَذِهِ ] اللَّيْلَةَ . قَالَ : فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ . قَالَ : بَلَى ؛ إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ فَقُتِلَ ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ - وَكَانَ طَبِيبًا - فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ ؛ إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعُهَا فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ ، وَإِمَّا أَنْ أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ وَتَبْرَأُ مِنْهَا ؛ فَإِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَمَّا النَّارُ : فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا ، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ : فَإِنَّ فِي يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَوَلَدُهُمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي . فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ فَبَرَأَ ، فَلَمْ يُولَدْ لَهُ بَعْدُ . فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ وَقِيَامِ الشُّرْطِ عَلَى رَأْسِهِ .
وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : أَيْ بَنِيَّ ، أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَ[ إِقَامَ ] الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحَلِّهَا ، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ ؛ فَإِنَّهُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ . وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَاهِلِ ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ .
قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ : هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ ، وَأُوصِيكَ بِتَوْقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا ، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا .
ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : أُوصِيكُمَا بِهِ ؛ فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا وَابْنُ أَبِيكُمَا ، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ .
ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ . ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ . ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ وَيَا حُسَيْنُ ، وَيَا جَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي ، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي : بِتَقْوَى اللَّهِ رَبِّكُمْ ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ " .
وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ ، فَصِلُوهُمْ يُهَوِّنِ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الصَّلَاةِ ؛ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرَكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ ؛ فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تُظْلَمَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ " .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ أَوْصَى بِهِمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [ فِإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ ؛ النِّسَاءَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ] .
الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ لَا تَخَافُنَّ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ؛ اللَّهُ يَكْفِيكُمْ مَنْ أَرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ .
وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؛ فَيُوَلَّى أَمْرَكُمْ شِرَارُكُمْ ، ثُمَّ تَدْعُونَ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ .
عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَادُلِ ، إِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ وَالتَّدَابُرَ وَالتَّفَرُّقَ " وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ " .
حَفِظَكُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ .
ثُمَّ لَمْ يُنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ ، وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ .
وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَعَدَ فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ - وَكَانَ نَصْرَانِيًّا - وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ وَنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ يَمْشُونَ بِجَانِبِ إِمَامِهِمْ : شَقِيقِ بْنِ ثَوْرٍ السُّلَمِيِّ ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأُخْبِرَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ :
لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا
فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كَفُورٍ بِمُنْكَرِ أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا
جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ .
وَقَالَ ابْنُ [ أَبِي ] عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ :
وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ كَمَهْرِ قَطَامٍ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ
وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمِّمِ وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمٍ
.
وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ :
أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ فَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشامِتِينَا أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا
بِخَيْرِ الناسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا قَتَلْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا وَحَلَّسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا
وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حِينَ كَانَتْ بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينَا
.
وَأُمَّا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ ، فَلَمْ يَخْرُجْ [ كَانَ ] وَاشْتَكَى فِيهَا بَطْنَهُ ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ حَبِيبٍ - وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ - وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ [ فَأُخِذَ ] ، وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو ، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : مَنْ قَتَلْتُ ؟ قَالُوا : خَارِجَةَ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمِدْتُ غَيْرَكَ . قَالَ عَمْرٌو : أَرَدْتَنِي وَاللَّهُ أَرَادَ خَارِجَةَ ، وَقَدَّمَهُ وَقَتَلَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ :
وَقْتُكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ
نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةُ لَازِبِ
وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ .
وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ الْحَسَنُ قَدْ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ بِإِيلَيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ ، وَخَرَجَ الْحَسَنُ حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنَ .
وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ - : هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى و
وَقَالَ الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ .
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ : أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ .
فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللَّهِ أَنْ لَا يَنْكُصَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَسَمُّوهَا ، اتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ وَاحِدٍ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ .
وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ ، فَأَمَّا ابْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ ، وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيٌّ مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهْرِ ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ .
قَالَ : وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا : قَطَامِ بِنْتُ الشِّحْنَةِ ، وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَبَاهَا وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهْرِ ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا فَخَطَبَهَا ، فَقَالَتْ : لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْفِيَنِي قَالَ : وَمَا تَشَائِينَ ؟ قَالَتْ : ثَلَاثَةُ آلَافٍ ، وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : هُوَ مَهْرٌ لَكِ ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ . قَالَتْ : بَلَى ، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي ، وَنَفَعَكَ مَعِي الْعَيْشُ ، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . فَقَالَ : مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ . قَالَتْ : فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهُ : وَرْدَانُ ، فَكَلَّمَتْهُ فَأَجَابَهَا ، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ : شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةَ ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَتْلُ عَلِيٍّ قَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؛ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا ، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ ؟ قَالَ : أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا ، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا . قَالَ : وَيْحَكَ ! لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ ، قَدْ عَرَفْتَ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَجِدُنِي أَشْرَحُ لِقَتْلِهِ .
قَالَ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ نَقْتُلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا ، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةً فِيهِ ، فَقَالُوا لَهَا : قَدِ اجْتَمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ . قَالَ : فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَأْتُونِي ، فَقَالَ : هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبَيَّ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ ، وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَّةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ ، فَخَرَجَ [ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ] لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ أَوْ بِالطَّاقِ فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ عَلَى قَرْنِهِ وَهَرَبَ ، حَتَّى وَرَدَ أَنَّ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مَنْ بَنِي أُمِّهِ وَهُوَ يَنْزِعُ السَّيْفَ وَالْحَدِيدَ عَنْ صَدْرِهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَدِيدُ ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ حَتَّى قَتَلَهُ ، وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا [ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ] يُقَالُ لَهُ : عُوَيْمِرٌ ضَرَبَ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ ، فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ فَنَجَا بِنَفْسِهِ ، وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ . وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ [ أَهْلِ ] هَمَذَانَ يُكَنَّى : أَبَا أُدُمَا ، فَضَرَبَ رِجْلَهُ فَصَرَعَهُ ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ ، وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ .
وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ [ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ ] فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرَةٍ مَنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ ، مَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَجَعَلَ يُنَادِي : أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ ، أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السَّيْفِ ، وَسَمِعْتُ : الْحُكْمُ لِلَّهِ لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ . فَرَأَيْتُ سَيْفًا ، وَرَأَيْتُ نَاسًا ، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ . وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ . فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ ، فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي ، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي .
وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ قَالَ لَهُ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ ؟ قَالَ : بَلَى قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - .
وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، [ إِنَّهُ ] لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مُخْزِيكَ . قَالَ : فَعَلَامَ تَبْكِينَ ، وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَسَمَمْتُهُ بِأَلْفٍ ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ مِصْرَ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً ، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ . فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ : إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي ، وَلَئِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ .
وَذُكِرَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقِدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ ؟ قَالَ : مَا آمُرُكُمْ وَلَا أَنْهَاكُمْ ، أَنْتُمْ أَبْصَرُ . فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ الْحَسَنُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ : هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ ، إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَيْتُ بِهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللَّهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا ، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَلَكَ اللَّهُ عَلَى إِنْ لَمْ أَقْتُلْهُ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : لَا وَاللَّهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ ، فَأَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارٍ ، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ .
وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ تَقُولُونَ : قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا لَا يُقْتَلْ بِي إِلَّا قَاتِلِي .
وَأُمًّا الْبُرَكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ ، وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا ، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ ؟ قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا [ فِي هَذِهِ ] اللَّيْلَةَ . قَالَ : فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ . قَالَ : بَلَى ؛ إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ فَقُتِلَ ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ - وَكَانَ طَبِيبًا - فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ ؛ إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعُهَا فِي مَوْضِعِ السَّيْفِ ، وَإِمَّا أَنْ أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ وَتَبْرَأُ مِنْهَا ؛ فَإِنَّ ضَرْبَتَكَ مَسْمُومَةٌ . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَمَّا النَّارُ : فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا ، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ : فَإِنَّ فِي يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَوَلَدُهُمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي . فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ فَبَرَأَ ، فَلَمْ يُولَدْ لَهُ بَعْدُ . فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ وَقِيَامِ الشُّرْطِ عَلَى رَأْسِهِ .
وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : أَيْ بَنِيَّ ، أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَ[ إِقَامَ ] الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحَلِّهَا ، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ ؛ فَإِنَّهُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ . وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَاهِلِ ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ .
قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ : هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ ، وَأُوصِيكَ بِتَوْقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا ، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا .
ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : أُوصِيكُمَا بِهِ ؛ فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا وَابْنُ أَبِيكُمَا ، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ .
ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ . ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ . ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ وَيَا حُسَيْنُ ، وَيَا جَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي ، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي : بِتَقْوَى اللَّهِ رَبِّكُمْ ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ " .
وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ ، فَصِلُوهُمْ يُهَوِّنِ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الصَّلَاةِ ؛ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرَكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْقُرْآنِ لَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ ؛ فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تُظْلَمَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ " .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ أَوْصَى بِهِمْ .
وَاللَّهَ اللَّهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [ فِإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ ؛ النِّسَاءَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ] .
الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ لَا تَخَافُنَّ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ؛ اللَّهُ يَكْفِيكُمْ مَنْ أَرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ .
وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؛ فَيُوَلَّى أَمْرَكُمْ شِرَارُكُمْ ، ثُمَّ تَدْعُونَ وَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ .
عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَادُلِ ، إِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ وَالتَّدَابُرَ وَالتَّفَرُّقَ " وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ " .
حَفِظَكُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ .
ثُمَّ لَمْ يُنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ ، وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ .
وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَعَدَ فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ - وَكَانَ نَصْرَانِيًّا - وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ وَنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ يَمْشُونَ بِجَانِبِ إِمَامِهِمْ : شَقِيقِ بْنِ ثَوْرٍ السُّلَمِيِّ ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأُخْبِرَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ :
لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا
فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كَفُورٍ بِمُنْكَرِ أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا
جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ .
وَقَالَ ابْنُ [ أَبِي ] عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ :
وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ كَمَهْرِ قَطَامٍ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ ثَلَاثَةُ آلَافٍ وَعَبْدٌ وَقَيْنَةٌ
وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمِّمِ وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمٍ
.
وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ :
أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ فَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشامِتِينَا أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا
بِخَيْرِ الناسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا قَتَلْتُمْ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا وَحَلَّسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا
وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حِينَ كَانَتْ بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينَا
.
وَأُمَّا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ ، فَلَمْ يَخْرُجْ [ كَانَ ] وَاشْتَكَى فِيهَا بَطْنَهُ ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ حَبِيبٍ - وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ - وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ [ فَأُخِذَ ] ، وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو ، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : مَنْ قَتَلْتُ ؟ قَالُوا : خَارِجَةَ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمِدْتُ غَيْرَكَ . قَالَ عَمْرٌو : أَرَدْتَنِي وَاللَّهُ أَرَادَ خَارِجَةَ ، وَقَدَّمَهُ وَقَتَلَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ :
وَقْتُكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ
نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةُ لَازِبِ
وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ .
وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ الْحَسَنُ قَدْ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ بِإِيلَيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ ، وَخَرَجَ الْحَسَنُ حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنَ .
وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ - : هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى و
محمد محی الدین
اسماعیل بن راشد بیان کرتے ہیں : ابن ملجم ( اللہ تعالیٰ اس پر اور اس کے ساتھیوں پر لعنت کرے ) کا واقعہ یہ ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم ، برک بن عبداللہ اور عمر بن بکر تمیمی مکہ میں اکٹھے ہوئے ، انہوں نے لوگوں کے حالات کا تذکرہ کیا اور ان کے حکمرانوں کے طرز عمل پر عیب لگایا ، پھر انہوں نے اہل نہروان کا تذکرہ کیا اور ان کے لئے رحمت کی دعا کی اور کہا: اللہ کی قسم ! ان کے بعد زندہ رہ کر ہم کیا کریں گے ؟ وہ ہمارے بھائی تھے جو لوگوں کو ان کے پروردگار کی عبادت کی دعوت دیتے تھے ، اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے ، اگر ہم اپنی جانیں بیچ دیں اور گمراہی کے پیشواؤں کے پاس جا کر انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں ، شہروں کو ان سے نجات دلا دیں اور ان کے ذریعے اپنے بھائیوں کا بدلہ لے لیں ( تو کیا ہی اچھا ہو ) ۔ ابن ملجم نے ، جو اہل مصر میں سے تھا ، کہا: علی بن ابوطالب کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوں ۔
برک بن عبداللہ نے کہا: معاویہ بن ابوسفیان کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوں ۔
عمرو بن بکر تمیمی نے کہا: عمرو بن العاص کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوں ۔
پھر انہوں نے آپس میں عہد کیا اور اللہ کے نام پر ایک دوسرے سے پختہ وعدہ کیا کہ ان میں سے کوئی بھی اس شخص سے پیچھے نہیں ہٹے گا جس کی طرف وہ جا رہا ہے ، یہاں تک کہ اسے قتل کر دے یا اس کوشش میں خود مارا جائے ، پھر انہوں نے اپنی تلواریں لیں اور انہیں زہر میں بجھا لیا ، اور رمضان کے مہینے کی سترہ تاریخ مقرر کی کہ اس دن ہر ایک اپنے ہدف پر حملہ کرے گا ۔
ان میں سے ہر شخص اس شہر کی طرف روانہ ہوا جس میں اس کا مطلوبہ شخص موجود تھا ، ابن ملجم مرادی کوفہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور اس نے اپنا ارادہ ان سے چھپائے رکھا ، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس کے معاملے میں سے کوئی چیز ظاہر نہ کر دیں ، وہاں اس کی ملاقات تیم الرباب سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں سے ہوئی ، جن میں سے کئی افراد کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نہر ( نہروان ) کی جنگ کے دن قتل کیا تھا ، انہوں نے اپنے مقتولین کا تذکرہ کیا اور ان کے لئے رحمت کی دعا کی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : اسی دن اس کی ملاقات تیم الرباب کی ایک عورت سے ہوئی ، جس کا نام قطام بنت شحنہ تھا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نہر کی جنگ کے دن اس کے باپ اور بھائی کو قتل کیا تھا ، وہ انتہائی خوبصورت تھی ، جب ابن ملجم نے اسے دیکھا تو وہ اس کے دل و دماغ پر چھا گئی ، اور وہ اپنا وہ کام بھول گیا جس کے لئے وہ آیا تھا ، اس نے اسے نکاح کا پیغام دیا ، اس عورت نے کہا: میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک تم میرے دل کو ٹھنڈک نہ پہنچاؤ ، اس نے پوچھا : تم کیا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا: تین ہزار ( درہم ) ، ایک غلام ، ایک گانے والی کنیز اور علی بن ابوطالب کا قتل ، ابن ملجم نے کہا: یہ تمہارا مہر ہے ، جہاں تک علی بن ابوطالب کے قتل کا تعلق ہے ، تو میرا خیال نہیں کہ تم نے واقعی اسے چاہتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں ! تم اس کی غفلت کا موقع تلاش کرو ، اگر تم اسے نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تو تم اپنے دل کو بھی ٹھنڈک پہنچاؤ گے اور میرے دل کو بھی ، اور میرے ساتھ زندگی تمہیں فائدہ دے گی ، اور اگر تم مارے گئے تو جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ دنیا اور اہل دنیا کی زیب و زینت سے بہتر ہے ، ابن ملجم نے کہا: مجھے اس شہر میں صرف علی کا قتل ہی لے کر آیا ہے ، اس عورت نے کہا: جب تم اس کا ارادہ کرو تو مجھے بتانا تاکہ میں تمہارے لئے کوئی ایسا شخص تلاش کروں جو تمہاری پشت پناہی کرے اور تمہارے کام میں تمہاری مدد کرے ، پھر اس نے اپنی قوم تیم الرباب کے ایک شخص کو بلوایا جس کا نام وردان تھا ، اس سے بات کی تو اس نے اس کی بات مان لی ، ابن ملجم اشجع قبیلے کے ایک شخص کے پاس آیا جس کا نام شبیب بن نجدہ تھا ، اور اس سے کہا: کیا تم دنیا اور آخرت کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ اس نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ ابن ملجم نے کہا: علی کا قتل ، اس نے کہا: تمہاری ماں تمہیں روئے ! تم نے بہت سنگین بات کی ہے ، تم اسے قتل کرنے پر کیسے قادر ہو سکتے ہو ؟ ابن ملجم نے کہا: میں سحری کے وقت اس کی گھات میں بیٹھوں گا ، جب وہ صبح کی نماز کے لئے نکلے گا تو ہم اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیں گے ، اگر ہم بچ گئے تو اپنے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائیں گے اور اپنا بدلہ پا لیں گے ، اور اگر ہم مارے گئے تو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیا اور اہل دنیا کی زیب و زینت سے بہتر ہے ، اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! اگر علی کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میرے لئے آسان ہوتا ، تم اسلام میں اس کی آزمائشوں ( اور خدمات ) کو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی سبقت کو جانتے ہو ، میں اپنے دل کو اس کے قتل پر آمادہ نہیں پاتا ۔
ابن ملجم نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ اس نے اہل نہروان کو قتل کیا ہے جو عبادت گزار اور نمازی تھے ؟ اس نے کہا: ہاں ، ( ابن ملجم نے کہا: ) ہم اسے اپنے ان بھائیوں کے بدلے میں قتل کریں گے جنہیں اس نے قتل کیا ہے ، تو اس نے اس کی بات مان لی ، پھر وہ لوگ آئے اور قطام کے پاس پہنچے ، وہ اس وقت جامع مسجد میں اعتکاف میں تھی ، انہوں نے اس سے کہا: ہماری رائے علی کو قتل کرنے پر متفق ہو گئی ہے ، اس نے کہا: جب تم اس کا ارادہ کرو تو میرے پاس آنا ، ابن ملجم نے کہا: یہی وہ رات ہے جس کا میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہدف کو قتل کرے گا ، اس عورت نے ان کے لئے ریشم منگوایا اور ان کے ( سینوں پر ) باندھ دیا ، انہوں نے اپنی تلواریں لیں اور اس دروازے کے سامنے بیٹھ گئے جہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلا کرتے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور یہ کہنے لگے : نماز ! نماز ! شبیب نے آپ پر حملہ کیا اور تلوار سے وار کیا ، لیکن تلوار دروازے کی چوکھٹ یا محراب پر جا لگی ، پھر ابن ملجم نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کے سر کے اوپر والے حصے پر وار کیا اور بھاگ گیا ، ( وردان بھی بھاگا ) یہاں تک کہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا ، اس کی ماں کے خاندان کا ایک شخص اندر آیا ، وہ اس وقت اپنے سینے سے تلوار اور لوہا ( یعنی ہتھیار ) اتار رہا تھا ، اس شخص نے پوچھا : یہ تلوار اور لوہا کیا ہے ؟ تو اس نے اسے سارا واقعہ بتا دیا ، وہ شخص اپنے گھر گیا ، اپنی تلوار لے کر آیا اور اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا ، شبیب کندہ کے دروازوں کی طرف نکلا تو لوگوں نے اس پر حملہ کیا ، حضرموت کے ایک شخص نے جس کا نام عویمر تھا ، اس کی ٹانگ پر تلوار ماری اور اسے گرا دیا اور حضرمی اس پر چڑھ بیٹھا ، جب اس ( حضرمی ) نے دیکھا کہ لوگ اس کی تلاش میں آ رہے ہیں اور شبیب کی تلوار اس کے ہاتھ میں ہے ، تو اسے اپنی جان کا خطرہ ہوا ، اس نے اسے چھوڑ دیا اور خود بچ نکلا ، اور شبیب لوگوں کے ہجوم میں بچ نکلا ۔ ابن ملجم نکلا تو ہمدان کے ایک شخص نے جس کی کنیت ابوادما تھی ، اس پر حملہ کیا ، اس کی ٹانگ پر وار کیا اور اسے گرا دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور جعدہ بن ہبیرہ بن ابووہب کو پشت سے آگے کیا ، تو انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، اور لوگ ہر طرف سے اس ( ابن ملجم ) پر ٹوٹ پڑے ۔
یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ محمد بن حنیف کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! جس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا ، اس رات میں جامع مسجد میں دروازے کے قریب شہر کے بہت سے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ، وہ سب صرف قیام ، رکوع اور سجدے میں مشغول تھے ، وہ رات کے شروع سے آخر تک نہیں اکتاتے تھے ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور یہ پکارنے لگے : اے لوگو ! نماز ! نماز ! مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کلمات کہے یا میں نے تلوار کی چمک دیکھی ، اور میں نے یہ آواز سنی : اے علی ! حکم صرف اللہ کا ہے ، تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ، پھر میں نے ایک تلوار دیکھی اور کچھ لوگوں کو دیکھا ، اور میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : یہ شخص بچ کر نہ جانے پائے ، لوگ ہر طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے ، میں وہیں رہا یہاں تک کہ ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، اندر جانے والے لوگوں کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جان کے بدلے جان ہے ، اگر میں فوت ہو جاؤں تو اسے اسی طرح قتل کر دینا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا ہے ، اور اگر میں بچ گیا تو اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کروں گا ۔
جب ابن ملجم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے تمہارے لئے فلاں فلاں کام نہیں کیا تھا ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، آپ نے فرمایا : پھر تمہیں اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا: میں نے چالیس دن تک ہر صبح اس ( تلوار ) کو تیز کیا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس کے ذریعے اپنی مخلوق کے بدترین شخص کو قتل کروائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم ہی اس کے ذریعے قتل کیے جاؤ گے ، اور میں تو تمہیں ہی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بدترین سمجھتا ہوں ۔
ابن ملجم کو مشکیں کس کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تھا کہ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے روتے ہوئے اسے پکار کر کہا: اے اللہ کے دشمن ! میرے والد کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ تجھے رسوا کرے گا ، اس نے کہا: پھر تم کس لئے رو رہی ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اس ( تلوار ) کو ایک ہزار میں خریدا ہے اور ایک ہزار خرچ کر کے اسے زہر میں بجھایا ہے ، اگر یہ وار پورے شہر والوں پر پڑتا تو ان میں سے کوئی ایک گھڑی بھی زندہ نہ رہتا ، اور یہ تمہارے والد ابھی تک زندہ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر میں بچ گیا تو اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کروں گا ، اور اگر میں اپنے اس زخم کی وجہ سے فوت ہو گیا تو اسے ایک ہی وار کرنا اور اس کا مثلہ نہ کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، خواہ وہ کاٹنے والے کتے کا ہی کیوں نہ ہو ۔
یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جندب بن عبداللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے اور عرض کی : اے امیر المؤمنین ! اگر ہم آپ کو کھو دیں ، اور اللہ کرے کہ ہم آپ کو نہ کھوئیں ، تو کیا ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں ؟ آپ نے فرمایا : میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں ، تم لوگ زیادہ بہتر سمجھتے ہو ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو بلوایا ، جب وہ ان کے پاس آیا تو ابن ملجم نے ان سے کہا: کیا آپ ایک بات قبول کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہد کیا ہے اسے پورا کیا ہے ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ کو قتل کروں گا یا اس کوشش میں مارا جاؤں گا ، اگر آپ چاہیں تو مجھے اس ( معاویہ ) کی طرف جانے دیں ، اور میں آپ سے اللہ کے نام پر یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اسے قتل نہ کر سکا تو آپ کے پاس واپس آ کر اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دوں گا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں ، یہاں تک کہ تو جہنم کو دیکھ لے ، پھر آپ نے اسے آگے کیا اور قتل کر دیا ، لوگوں نے اسے لے کر چٹائیوں میں لپیٹا اور پھر آگ میں جلا دیا ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا : اے بنو عبدالمطلب ! میں تمہیں اس حال میں نہ پاؤں کہ تم مسلمانوں کے خون میں گھستے پھرو اور یہ کہتے پھرو : امیر المؤمنین کو قتل کر دیا گیا ، امیر المؤمنین کو قتل کر دیا گیا ، خبردار ! میرے بدلے میں صرف میرے قاتل کو ہی قتل کیا جائے ۔
جہاں تک برک بن عبداللہ کا تعلق ہے تو وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھ گیا ، جب وہ صبح کی نماز کے لئے نکلے تو اس نے تلوار لے کر ان پر حملہ کیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو تلوار ان کے سرین پر لگی ، برک نے کہا: میرے پاس ایک خبر ہے جس کی میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں ، اگر میں آپ کو وہ خبر بتا دوں تو کیا آپ کے ہاں اس کا مجھے کوئی فائدہ ہو گا ؟ انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: میرے ایک بھائی نے آج رات علی کو قتل کر دیا ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شاید وہ ان پر قابو نہ پا سکا ہو ، اس نے کہا: کیوں نہیں ! علی جب نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کوئی پہرہ دار نہیں ہوتا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے قتل کر دیا گیا ، پھر انہوں نے ساعدی کو بلوایا جو طبیب تھا ، اس نے ان کا معائنہ کیا اور کہا: آپ کا زخم زہر آلود ہے ، آپ میری طرف سے دو میں سے ایک بات اختیار کر لیں ، یا تو میں لوہے کا ایک ٹکڑا گرم کر کے تلوار کے زخم کی جگہ پر رکھ دوں ، یا میں آپ کو ایک ایسا مشروب پلا دوں جس سے آپ کی اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور آپ اس کے ذریعے صحت یاب ہو جائیں گے ، کیونکہ آپ کا زخم زہر آلود ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو مجھ میں اس پر صبر کی طاقت نہیں ہے ، اور جہاں تک اولاد کے منقطع ہونے کا تعلق ہے تو یزید اور عبداللہ اور ان دونوں کی اولاد میں وہ کچھ موجود ہے جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ، تو اس نے اسی رات انہیں وہ مشروب پلا دیا ، وہ صحت یاب ہو گئے ، اور اس کے بعد ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی ، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ( مسجد میں ) مقصورے بنانے اور اپنے سر پر پہرے داروں کے کھڑے ہونے کا حکم دیا ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا : اے میرے بیٹو ! میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے کی ، زکوٰۃ کو اس کے واجب ہونے پر ادا کرنے کی اور اچھی طرح وضو کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، کیونکہ طہارت کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ، اور میں تمہیں گناہ معاف کرنے ، غصہ پی جانے ، صلہ رحمی کرنے ، جاہل کے ساتھ بردباری سے پیش آنے ، دین کی سمجھ حاصل کرنے ، معاملات میں ثابت قدمی ( اور تحقیق ) سے کام لینے ، قرآن کی پابندی کرنے ، اچھی ہمسائیگی ، نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں ۔
راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں نے تمہارے دونوں بھائیوں کو جو تلقین کی ہے کیا تم نے اسے یاد کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : میں تمہیں بھی اسی کی تلقین کرتا ہوں ، اور میں تمہیں یہ تلقین بھی کرتا ہوں کہ اپنے دونوں بھائیوں کی تعظیم کرنا کیونکہ تم پر ان کا بڑا حق ہے ، ان کے معاملے کو آراستہ کرنا ( یعنی ان کی تائید کرنا ) اور ان کے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کرنا ۔
پھر آپ نے ان دونوں سے فرمایا : میں تمہیں اس کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارا بھائی اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے ، اور تم دونوں جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا تھا ۔
پھر آپ نے وصیت کی ، آپ کی وصیت یہ تھی : اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابوطالب نے کی ہے : وہ یہ وصیت کرتا ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، جنہیں اس نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے ، خواہ مشرکین کو ناپسند ہو ، پھر بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ پھر اے حسن ! اے حسین ! اور اے میرے تمام اہل خانہ اور میری اولاد ! اور جس تک بھی میری یہ تحریر پہنچے ، میں تمہیں اپنے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ، اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آپس کے تعلقات کی اصلاح عام نماز اور روزے سے زیادہ بڑی چیز ہے ۔ “
اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے حساب کو آسان کر دے گا ۔
یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، وہ تمہاری موجودگی میں ضائع نہ ہونے پائیں ۔
نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے ۔
زکوٰۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ یہ پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے ۔
فقیروں اور مسکینوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، انہیں اپنی معیشت میں شریک کرو ۔
قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کوئی دوسرا اس پر عمل کرنے میں تم سے سبقت نہ لے جائے ۔
اپنے مالوں اور جانوں کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ۔
اپنے پروردگار کے گھر کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، جب تک تم باقی ہو وہ خالی نہ رہنے پائے ، کیونکہ اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو تمہیں مہلت نہیں دی جائے گی ۔
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے میں آنے والوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، تمہارے درمیان ان پر ظلم نہ ہونے پائے ۔
اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل مجھے پڑوسیوں کے بارے میں مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ وہ انہیں وارث بنا دیں گے ۔ “
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں تلقین کی ہے ۔
دو کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ تھی : ” میں تمہیں دو کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔ “
نماز ! نماز ! اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا ، جو تمہارا برا چاہے اور تم پر زیادتی کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں تمہارے لئے کافی ہو گا ، اور لوگوں سے اچھی بات کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ترک نہ کرنا ، ورنہ تم میں سے بدترین لوگ تمہارے حکمران بنا دیے جائیں گے ، پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہو گی ۔
تم پر لازم ہے کہ آپس میں میل جول رکھو اور ایک دوسرے پر خرچ کرو ، قطع تعلقی ، ایک دوسرے سے منہ پھیرنے اور تفرقے سے بچو ، ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔ “
اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ، اور تمہارے بارے میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کے حق ) کی حفاظت کرے ۔
میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تمہیں سلام کہتا ہوں ۔
پھر آپ نے ” لا الہ الا اللہ “ کے سوا کوئی بات نہیں کی ، یہاں تک کہ چالیس ہجری میں رمضان کے مہینے میں آپ کا انتقال ہو گیا ، سیدنا حسن ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، آپ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص شامل نہیں تھی ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ میں نو تکبیریں کہیں ، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک آپ کے منصب ( خلافت ) پر فائز رہے ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کرنے سے پہلے ابن ملجم بنو بکر بن وائل میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران اس کے پاس سے ابجر بن جابر عجلی کا جنازہ گزرا ، جو حجار کا والد تھا ، وہ عیسائی تھا ، عیسائی اس کے ارد گرد تھے ، اور کچھ لوگ حجار کے مرتبے کی وجہ سے اس کے ساتھ اپنے امام شقیق بن ثور سلمی کے پہلو میں چل رہے تھے ، جب ابن ملجم نے انہیں دیکھا تو پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اسے بتایا گیا ، تو اس نے یہ اشعار کہے :
” اگر حجار بن ابجر مسلمان ہے تو ابجر کے جنازے کو اس سے دور رکھا جانا چاہیے تھا ، اور اگر حجار بن ابجر کافر ہے تو کسی کافر کی طرف سے ایسی بات کوئی انوکھی نہیں ، کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ ایک پادری اور ایک مسلمان دونوں ایک جنازے کے پاس اکٹھے ہوں ؟ کیسا برا منظر ہے ! “
ابن ابوعیاش مرادی نے کہا:
” میں نے کسی سخی شخص کا ادا کیا ہوا کوئی مہر قطام کے مہر جیسا نہیں دیکھا ، جو واضح ہے ، مبہم نہیں ، تین ہزار ، ایک غلام ، ایک گانے والی کنیز ، اور کاٹ دینے والی تیز تلوار سے علی پر وار ، علی سے زیادہ مہنگا کوئی مہر نہیں ، خواہ وہ کتنا ہی مہنگا ہو ، اور کوئی قتل ابن ملجم کے کیے ہوئے قتل سے بڑھ کر نہیں ۔ “
ابواسود دؤلی نے کہا:
” سنو ! معاویہ بن حرب کو یہ پیغام پہنچا دو ، ( ہماری مصیبت پر ) خوش ہونے والوں کی آنکھیں کبھی ٹھنڈی نہ ہوں ، کیا تم نے حرمت والے مہینے میں ہمیں تمام لوگوں میں سب سے بہترین شخص ( کی جدائی ) کا صدمہ دیا ہے ؟ تم نے اس شخص کو قتل کیا جو سواریوں پر سوار ہونے والوں اور ان پر زین کسنے والوں میں سب سے بہتر تھا ، اور کشتیوں پر سوار ہونے والوں میں ، اور جوتے پہننے والوں اور انہیں بنانے والوں میں ، اور مثانی اور مئین ( سورتوں ) کی تلاوت کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا ، قریش کو اس وقت بھی معلوم تھا کہ تم حسب اور دین کے اعتبار سے ان میں سب سے بہتر ہو ۔ “
جہاں تک عمرو بن بکر کا تعلق ہے تو جس رات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا تھا ، اسی رات وہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھا ، لیکن وہ ( نماز کے لئے ) نہیں نکلے کیونکہ اس رات ان کے پیٹ میں تکلیف تھی ، انہوں نے خارجہ بن حبیب کو حکم دیا ، جو ان کے پہرے داروں کے سربراہ تھے اور بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتے تھے ، وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے نکلے تو عمرو بن بکر نے ان پر حملہ کر دیا ، وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ عمرو بن العاص ہیں ، اس نے تلوار سے وار کر کے انہیں قتل کر دیا ، اسے پکڑ لیا گیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، جب اس نے دیکھا کہ لوگ انہیں امیر کہہ کر سلام کر رہے ہیں تو اس نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : عمرو بن العاص ، اس نے پوچھا : پھر میں نے کس کو قتل کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : خارجہ کو ، اس نے کہا: اے فاسق ! اللہ کی قسم ! میں نے تو صرف تمہارا ہی ارادہ کیا تھا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے میرا ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خارجہ کا ارادہ کیا تھا ، پھر انہوں نے اسے آگے کیا اور قتل کر دیا ، جب اس بات کی اطلاع سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے انہیں یہ ( اشعار ) لکھ کر بھیجے :
” تم بچا لیے گئے ، اور معاملات کے اسباب بہت سے ہوتے ہیں ، لؤی بن غالب کے ایک بزرگ کی موت کے ذریعے ، تو اے عمرو ! ذرا ٹھہرو ، تم تو اس کے چچا ہو اور قریبی رشتہ داروں کے بجائے اس کے ساتھی ہو ، تم بچ نکلے جبکہ مرادی نے ابوطالب کے بیٹے کے خون سے اپنی تلوار تر کر لی جو وادی بطحاء کے سردار کا بیٹا تھا ، اور اسی جیسے ایک دوسرے شخص نے مجھ پر تلوار سے وار کیا ، تو اس پر وہ وار لازم ہو کر رہا ، اور تم ہر دن اور رات اپنے شہر ( مصر ) میں پیاسی ہرنیوں جیسی گوری عورتوں سے دل لگی کرتے ہو ۔ “
ان کی وفات کی خبر لے کر جانے والے سفیان بن عبد شمس بن ابووقاص زہری تھے ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار ( کے لشکر ) کے ساتھ اپنے ہراول دستے پر مقرر کر کے بھیجا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسی سال روانہ ہوئے اور ایلیاء میں پڑاؤ کیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور مدائن کے سفید محلات میں پڑاؤ کیا ، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور مسکن کے مقام پر پڑاؤ کیا ۔
مدائن کا حاکم مختار بن ابوعبید کا چچا تھا ، جس کا نام سعد بن مسعود تھا ، مختار نے ، جو اس وقت نوجوان لڑکا تھا ، اس سے کہا: کیا تمہیں مالداری میں دلچسپی ہے
برک بن عبداللہ نے کہا: معاویہ بن ابوسفیان کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوں ۔
عمرو بن بکر تمیمی نے کہا: عمرو بن العاص کے لیے میں تمہاری طرف سے کافی ہوں ۔
پھر انہوں نے آپس میں عہد کیا اور اللہ کے نام پر ایک دوسرے سے پختہ وعدہ کیا کہ ان میں سے کوئی بھی اس شخص سے پیچھے نہیں ہٹے گا جس کی طرف وہ جا رہا ہے ، یہاں تک کہ اسے قتل کر دے یا اس کوشش میں خود مارا جائے ، پھر انہوں نے اپنی تلواریں لیں اور انہیں زہر میں بجھا لیا ، اور رمضان کے مہینے کی سترہ تاریخ مقرر کی کہ اس دن ہر ایک اپنے ہدف پر حملہ کرے گا ۔
ان میں سے ہر شخص اس شہر کی طرف روانہ ہوا جس میں اس کا مطلوبہ شخص موجود تھا ، ابن ملجم مرادی کوفہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور اس نے اپنا ارادہ ان سے چھپائے رکھا ، اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس کے معاملے میں سے کوئی چیز ظاہر نہ کر دیں ، وہاں اس کی ملاقات تیم الرباب سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں سے ہوئی ، جن میں سے کئی افراد کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نہر ( نہروان ) کی جنگ کے دن قتل کیا تھا ، انہوں نے اپنے مقتولین کا تذکرہ کیا اور ان کے لئے رحمت کی دعا کی ۔
راوی بیان کرتے ہیں : اسی دن اس کی ملاقات تیم الرباب کی ایک عورت سے ہوئی ، جس کا نام قطام بنت شحنہ تھا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نہر کی جنگ کے دن اس کے باپ اور بھائی کو قتل کیا تھا ، وہ انتہائی خوبصورت تھی ، جب ابن ملجم نے اسے دیکھا تو وہ اس کے دل و دماغ پر چھا گئی ، اور وہ اپنا وہ کام بھول گیا جس کے لئے وہ آیا تھا ، اس نے اسے نکاح کا پیغام دیا ، اس عورت نے کہا: میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک تم میرے دل کو ٹھنڈک نہ پہنچاؤ ، اس نے پوچھا : تم کیا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا: تین ہزار ( درہم ) ، ایک غلام ، ایک گانے والی کنیز اور علی بن ابوطالب کا قتل ، ابن ملجم نے کہا: یہ تمہارا مہر ہے ، جہاں تک علی بن ابوطالب کے قتل کا تعلق ہے ، تو میرا خیال نہیں کہ تم نے واقعی اسے چاہتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں ! تم اس کی غفلت کا موقع تلاش کرو ، اگر تم اسے نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تو تم اپنے دل کو بھی ٹھنڈک پہنچاؤ گے اور میرے دل کو بھی ، اور میرے ساتھ زندگی تمہیں فائدہ دے گی ، اور اگر تم مارے گئے تو جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ دنیا اور اہل دنیا کی زیب و زینت سے بہتر ہے ، ابن ملجم نے کہا: مجھے اس شہر میں صرف علی کا قتل ہی لے کر آیا ہے ، اس عورت نے کہا: جب تم اس کا ارادہ کرو تو مجھے بتانا تاکہ میں تمہارے لئے کوئی ایسا شخص تلاش کروں جو تمہاری پشت پناہی کرے اور تمہارے کام میں تمہاری مدد کرے ، پھر اس نے اپنی قوم تیم الرباب کے ایک شخص کو بلوایا جس کا نام وردان تھا ، اس سے بات کی تو اس نے اس کی بات مان لی ، ابن ملجم اشجع قبیلے کے ایک شخص کے پاس آیا جس کا نام شبیب بن نجدہ تھا ، اور اس سے کہا: کیا تم دنیا اور آخرت کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ اس نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ ابن ملجم نے کہا: علی کا قتل ، اس نے کہا: تمہاری ماں تمہیں روئے ! تم نے بہت سنگین بات کی ہے ، تم اسے قتل کرنے پر کیسے قادر ہو سکتے ہو ؟ ابن ملجم نے کہا: میں سحری کے وقت اس کی گھات میں بیٹھوں گا ، جب وہ صبح کی نماز کے لئے نکلے گا تو ہم اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیں گے ، اگر ہم بچ گئے تو اپنے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائیں گے اور اپنا بدلہ پا لیں گے ، اور اگر ہم مارے گئے تو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دنیا اور اہل دنیا کی زیب و زینت سے بہتر ہے ، اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! اگر علی کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میرے لئے آسان ہوتا ، تم اسلام میں اس کی آزمائشوں ( اور خدمات ) کو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی سبقت کو جانتے ہو ، میں اپنے دل کو اس کے قتل پر آمادہ نہیں پاتا ۔
ابن ملجم نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ اس نے اہل نہروان کو قتل کیا ہے جو عبادت گزار اور نمازی تھے ؟ اس نے کہا: ہاں ، ( ابن ملجم نے کہا: ) ہم اسے اپنے ان بھائیوں کے بدلے میں قتل کریں گے جنہیں اس نے قتل کیا ہے ، تو اس نے اس کی بات مان لی ، پھر وہ لوگ آئے اور قطام کے پاس پہنچے ، وہ اس وقت جامع مسجد میں اعتکاف میں تھی ، انہوں نے اس سے کہا: ہماری رائے علی کو قتل کرنے پر متفق ہو گئی ہے ، اس نے کہا: جب تم اس کا ارادہ کرو تو میرے پاس آنا ، ابن ملجم نے کہا: یہی وہ رات ہے جس کا میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہدف کو قتل کرے گا ، اس عورت نے ان کے لئے ریشم منگوایا اور ان کے ( سینوں پر ) باندھ دیا ، انہوں نے اپنی تلواریں لیں اور اس دروازے کے سامنے بیٹھ گئے جہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلا کرتے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور یہ کہنے لگے : نماز ! نماز ! شبیب نے آپ پر حملہ کیا اور تلوار سے وار کیا ، لیکن تلوار دروازے کی چوکھٹ یا محراب پر جا لگی ، پھر ابن ملجم نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کے سر کے اوپر والے حصے پر وار کیا اور بھاگ گیا ، ( وردان بھی بھاگا ) یہاں تک کہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا ، اس کی ماں کے خاندان کا ایک شخص اندر آیا ، وہ اس وقت اپنے سینے سے تلوار اور لوہا ( یعنی ہتھیار ) اتار رہا تھا ، اس شخص نے پوچھا : یہ تلوار اور لوہا کیا ہے ؟ تو اس نے اسے سارا واقعہ بتا دیا ، وہ شخص اپنے گھر گیا ، اپنی تلوار لے کر آیا اور اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا ، شبیب کندہ کے دروازوں کی طرف نکلا تو لوگوں نے اس پر حملہ کیا ، حضرموت کے ایک شخص نے جس کا نام عویمر تھا ، اس کی ٹانگ پر تلوار ماری اور اسے گرا دیا اور حضرمی اس پر چڑھ بیٹھا ، جب اس ( حضرمی ) نے دیکھا کہ لوگ اس کی تلاش میں آ رہے ہیں اور شبیب کی تلوار اس کے ہاتھ میں ہے ، تو اسے اپنی جان کا خطرہ ہوا ، اس نے اسے چھوڑ دیا اور خود بچ نکلا ، اور شبیب لوگوں کے ہجوم میں بچ نکلا ۔ ابن ملجم نکلا تو ہمدان کے ایک شخص نے جس کی کنیت ابوادما تھی ، اس پر حملہ کیا ، اس کی ٹانگ پر وار کیا اور اسے گرا دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور جعدہ بن ہبیرہ بن ابووہب کو پشت سے آگے کیا ، تو انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، اور لوگ ہر طرف سے اس ( ابن ملجم ) پر ٹوٹ پڑے ۔
یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ محمد بن حنیف کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! جس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا ، اس رات میں جامع مسجد میں دروازے کے قریب شہر کے بہت سے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ، وہ سب صرف قیام ، رکوع اور سجدے میں مشغول تھے ، وہ رات کے شروع سے آخر تک نہیں اکتاتے تھے ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے نکلے اور یہ پکارنے لگے : اے لوگو ! نماز ! نماز ! مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ کلمات کہے یا میں نے تلوار کی چمک دیکھی ، اور میں نے یہ آواز سنی : اے علی ! حکم صرف اللہ کا ہے ، تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ، پھر میں نے ایک تلوار دیکھی اور کچھ لوگوں کو دیکھا ، اور میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : یہ شخص بچ کر نہ جانے پائے ، لوگ ہر طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے ، میں وہیں رہا یہاں تک کہ ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، اندر جانے والے لوگوں کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جان کے بدلے جان ہے ، اگر میں فوت ہو جاؤں تو اسے اسی طرح قتل کر دینا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا ہے ، اور اگر میں بچ گیا تو اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کروں گا ۔
جب ابن ملجم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے تمہارے لئے فلاں فلاں کام نہیں کیا تھا ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، آپ نے فرمایا : پھر تمہیں اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا: میں نے چالیس دن تک ہر صبح اس ( تلوار ) کو تیز کیا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس کے ذریعے اپنی مخلوق کے بدترین شخص کو قتل کروائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم ہی اس کے ذریعے قتل کیے جاؤ گے ، اور میں تو تمہیں ہی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بدترین سمجھتا ہوں ۔
ابن ملجم کو مشکیں کس کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تھا کہ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے روتے ہوئے اسے پکار کر کہا: اے اللہ کے دشمن ! میرے والد کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ تجھے رسوا کرے گا ، اس نے کہا: پھر تم کس لئے رو رہی ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اس ( تلوار ) کو ایک ہزار میں خریدا ہے اور ایک ہزار خرچ کر کے اسے زہر میں بجھایا ہے ، اگر یہ وار پورے شہر والوں پر پڑتا تو ان میں سے کوئی ایک گھڑی بھی زندہ نہ رہتا ، اور یہ تمہارے والد ابھی تک زندہ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر میں بچ گیا تو اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کروں گا ، اور اگر میں اپنے اس زخم کی وجہ سے فوت ہو گیا تو اسے ایک ہی وار کرنا اور اس کا مثلہ نہ کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، خواہ وہ کاٹنے والے کتے کا ہی کیوں نہ ہو ۔
یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جندب بن عبداللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے اور عرض کی : اے امیر المؤمنین ! اگر ہم آپ کو کھو دیں ، اور اللہ کرے کہ ہم آپ کو نہ کھوئیں ، تو کیا ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں ؟ آپ نے فرمایا : میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں ، تم لوگ زیادہ بہتر سمجھتے ہو ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو بلوایا ، جب وہ ان کے پاس آیا تو ابن ملجم نے ان سے کہا: کیا آپ ایک بات قبول کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہد کیا ہے اسے پورا کیا ہے ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ کو قتل کروں گا یا اس کوشش میں مارا جاؤں گا ، اگر آپ چاہیں تو مجھے اس ( معاویہ ) کی طرف جانے دیں ، اور میں آپ سے اللہ کے نام پر یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اسے قتل نہ کر سکا تو آپ کے پاس واپس آ کر اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دوں گا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں ، یہاں تک کہ تو جہنم کو دیکھ لے ، پھر آپ نے اسے آگے کیا اور قتل کر دیا ، لوگوں نے اسے لے کر چٹائیوں میں لپیٹا اور پھر آگ میں جلا دیا ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا : اے بنو عبدالمطلب ! میں تمہیں اس حال میں نہ پاؤں کہ تم مسلمانوں کے خون میں گھستے پھرو اور یہ کہتے پھرو : امیر المؤمنین کو قتل کر دیا گیا ، امیر المؤمنین کو قتل کر دیا گیا ، خبردار ! میرے بدلے میں صرف میرے قاتل کو ہی قتل کیا جائے ۔
جہاں تک برک بن عبداللہ کا تعلق ہے تو وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھ گیا ، جب وہ صبح کی نماز کے لئے نکلے تو اس نے تلوار لے کر ان پر حملہ کیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو تلوار ان کے سرین پر لگی ، برک نے کہا: میرے پاس ایک خبر ہے جس کی میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں ، اگر میں آپ کو وہ خبر بتا دوں تو کیا آپ کے ہاں اس کا مجھے کوئی فائدہ ہو گا ؟ انہوں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: میرے ایک بھائی نے آج رات علی کو قتل کر دیا ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شاید وہ ان پر قابو نہ پا سکا ہو ، اس نے کہا: کیوں نہیں ! علی جب نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کوئی پہرہ دار نہیں ہوتا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے قتل کر دیا گیا ، پھر انہوں نے ساعدی کو بلوایا جو طبیب تھا ، اس نے ان کا معائنہ کیا اور کہا: آپ کا زخم زہر آلود ہے ، آپ میری طرف سے دو میں سے ایک بات اختیار کر لیں ، یا تو میں لوہے کا ایک ٹکڑا گرم کر کے تلوار کے زخم کی جگہ پر رکھ دوں ، یا میں آپ کو ایک ایسا مشروب پلا دوں جس سے آپ کی اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور آپ اس کے ذریعے صحت یاب ہو جائیں گے ، کیونکہ آپ کا زخم زہر آلود ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو مجھ میں اس پر صبر کی طاقت نہیں ہے ، اور جہاں تک اولاد کے منقطع ہونے کا تعلق ہے تو یزید اور عبداللہ اور ان دونوں کی اولاد میں وہ کچھ موجود ہے جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ، تو اس نے اسی رات انہیں وہ مشروب پلا دیا ، وہ صحت یاب ہو گئے ، اور اس کے بعد ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی ، اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ( مسجد میں ) مقصورے بنانے اور اپنے سر پر پہرے داروں کے کھڑے ہونے کا حکم دیا ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا : اے میرے بیٹو ! میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے کی ، زکوٰۃ کو اس کے واجب ہونے پر ادا کرنے کی اور اچھی طرح وضو کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، کیونکہ طہارت کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ، اور میں تمہیں گناہ معاف کرنے ، غصہ پی جانے ، صلہ رحمی کرنے ، جاہل کے ساتھ بردباری سے پیش آنے ، دین کی سمجھ حاصل کرنے ، معاملات میں ثابت قدمی ( اور تحقیق ) سے کام لینے ، قرآن کی پابندی کرنے ، اچھی ہمسائیگی ، نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں ۔
راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں نے تمہارے دونوں بھائیوں کو جو تلقین کی ہے کیا تم نے اسے یاد کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : میں تمہیں بھی اسی کی تلقین کرتا ہوں ، اور میں تمہیں یہ تلقین بھی کرتا ہوں کہ اپنے دونوں بھائیوں کی تعظیم کرنا کیونکہ تم پر ان کا بڑا حق ہے ، ان کے معاملے کو آراستہ کرنا ( یعنی ان کی تائید کرنا ) اور ان کے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کرنا ۔
پھر آپ نے ان دونوں سے فرمایا : میں تمہیں اس کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارا بھائی اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے ، اور تم دونوں جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا تھا ۔
پھر آپ نے وصیت کی ، آپ کی وصیت یہ تھی : اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابوطالب نے کی ہے : وہ یہ وصیت کرتا ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، جنہیں اس نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے ، خواہ مشرکین کو ناپسند ہو ، پھر بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ پھر اے حسن ! اے حسین ! اور اے میرے تمام اہل خانہ اور میری اولاد ! اور جس تک بھی میری یہ تحریر پہنچے ، میں تمہیں اپنے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ، اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آپس کے تعلقات کی اصلاح عام نماز اور روزے سے زیادہ بڑی چیز ہے ۔ “
اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے حساب کو آسان کر دے گا ۔
یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، وہ تمہاری موجودگی میں ضائع نہ ہونے پائیں ۔
نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے ۔
زکوٰۃ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ یہ پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے ۔
فقیروں اور مسکینوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، انہیں اپنی معیشت میں شریک کرو ۔
قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کوئی دوسرا اس پر عمل کرنے میں تم سے سبقت نہ لے جائے ۔
اپنے مالوں اور جانوں کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ۔
اپنے پروردگار کے گھر کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، جب تک تم باقی ہو وہ خالی نہ رہنے پائے ، کیونکہ اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو تمہیں مہلت نہیں دی جائے گی ۔
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے میں آنے والوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، تمہارے درمیان ان پر ظلم نہ ہونے پائے ۔
اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل مجھے پڑوسیوں کے بارے میں مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ وہ انہیں وارث بنا دیں گے ۔ “
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں تلقین کی ہے ۔
دو کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ تھی : ” میں تمہیں دو کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔ “
نماز ! نماز ! اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا ، جو تمہارا برا چاہے اور تم پر زیادتی کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں تمہارے لئے کافی ہو گا ، اور لوگوں سے اچھی بات کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ترک نہ کرنا ، ورنہ تم میں سے بدترین لوگ تمہارے حکمران بنا دیے جائیں گے ، پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہو گی ۔
تم پر لازم ہے کہ آپس میں میل جول رکھو اور ایک دوسرے پر خرچ کرو ، قطع تعلقی ، ایک دوسرے سے منہ پھیرنے اور تفرقے سے بچو ، ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔ “
اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ، اور تمہارے بارے میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کے حق ) کی حفاظت کرے ۔
میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تمہیں سلام کہتا ہوں ۔
پھر آپ نے ” لا الہ الا اللہ “ کے سوا کوئی بات نہیں کی ، یہاں تک کہ چالیس ہجری میں رمضان کے مہینے میں آپ کا انتقال ہو گیا ، سیدنا حسن ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، آپ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص شامل نہیں تھی ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ میں نو تکبیریں کہیں ، اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک آپ کے منصب ( خلافت ) پر فائز رہے ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کرنے سے پہلے ابن ملجم بنو بکر بن وائل میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران اس کے پاس سے ابجر بن جابر عجلی کا جنازہ گزرا ، جو حجار کا والد تھا ، وہ عیسائی تھا ، عیسائی اس کے ارد گرد تھے ، اور کچھ لوگ حجار کے مرتبے کی وجہ سے اس کے ساتھ اپنے امام شقیق بن ثور سلمی کے پہلو میں چل رہے تھے ، جب ابن ملجم نے انہیں دیکھا تو پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ اسے بتایا گیا ، تو اس نے یہ اشعار کہے :
” اگر حجار بن ابجر مسلمان ہے تو ابجر کے جنازے کو اس سے دور رکھا جانا چاہیے تھا ، اور اگر حجار بن ابجر کافر ہے تو کسی کافر کی طرف سے ایسی بات کوئی انوکھی نہیں ، کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ ایک پادری اور ایک مسلمان دونوں ایک جنازے کے پاس اکٹھے ہوں ؟ کیسا برا منظر ہے ! “
ابن ابوعیاش مرادی نے کہا:
” میں نے کسی سخی شخص کا ادا کیا ہوا کوئی مہر قطام کے مہر جیسا نہیں دیکھا ، جو واضح ہے ، مبہم نہیں ، تین ہزار ، ایک غلام ، ایک گانے والی کنیز ، اور کاٹ دینے والی تیز تلوار سے علی پر وار ، علی سے زیادہ مہنگا کوئی مہر نہیں ، خواہ وہ کتنا ہی مہنگا ہو ، اور کوئی قتل ابن ملجم کے کیے ہوئے قتل سے بڑھ کر نہیں ۔ “
ابواسود دؤلی نے کہا:
” سنو ! معاویہ بن حرب کو یہ پیغام پہنچا دو ، ( ہماری مصیبت پر ) خوش ہونے والوں کی آنکھیں کبھی ٹھنڈی نہ ہوں ، کیا تم نے حرمت والے مہینے میں ہمیں تمام لوگوں میں سب سے بہترین شخص ( کی جدائی ) کا صدمہ دیا ہے ؟ تم نے اس شخص کو قتل کیا جو سواریوں پر سوار ہونے والوں اور ان پر زین کسنے والوں میں سب سے بہتر تھا ، اور کشتیوں پر سوار ہونے والوں میں ، اور جوتے پہننے والوں اور انہیں بنانے والوں میں ، اور مثانی اور مئین ( سورتوں ) کی تلاوت کرنے والوں میں سب سے بہتر تھا ، قریش کو اس وقت بھی معلوم تھا کہ تم حسب اور دین کے اعتبار سے ان میں سب سے بہتر ہو ۔ “
جہاں تک عمرو بن بکر کا تعلق ہے تو جس رات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر وار کیا گیا تھا ، اسی رات وہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھا ، لیکن وہ ( نماز کے لئے ) نہیں نکلے کیونکہ اس رات ان کے پیٹ میں تکلیف تھی ، انہوں نے خارجہ بن حبیب کو حکم دیا ، جو ان کے پہرے داروں کے سربراہ تھے اور بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتے تھے ، وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے نکلے تو عمرو بن بکر نے ان پر حملہ کر دیا ، وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ عمرو بن العاص ہیں ، اس نے تلوار سے وار کر کے انہیں قتل کر دیا ، اسے پکڑ لیا گیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، جب اس نے دیکھا کہ لوگ انہیں امیر کہہ کر سلام کر رہے ہیں تو اس نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : عمرو بن العاص ، اس نے پوچھا : پھر میں نے کس کو قتل کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : خارجہ کو ، اس نے کہا: اے فاسق ! اللہ کی قسم ! میں نے تو صرف تمہارا ہی ارادہ کیا تھا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے میرا ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خارجہ کا ارادہ کیا تھا ، پھر انہوں نے اسے آگے کیا اور قتل کر دیا ، جب اس بات کی اطلاع سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے انہیں یہ ( اشعار ) لکھ کر بھیجے :
” تم بچا لیے گئے ، اور معاملات کے اسباب بہت سے ہوتے ہیں ، لؤی بن غالب کے ایک بزرگ کی موت کے ذریعے ، تو اے عمرو ! ذرا ٹھہرو ، تم تو اس کے چچا ہو اور قریبی رشتہ داروں کے بجائے اس کے ساتھی ہو ، تم بچ نکلے جبکہ مرادی نے ابوطالب کے بیٹے کے خون سے اپنی تلوار تر کر لی جو وادی بطحاء کے سردار کا بیٹا تھا ، اور اسی جیسے ایک دوسرے شخص نے مجھ پر تلوار سے وار کیا ، تو اس پر وہ وار لازم ہو کر رہا ، اور تم ہر دن اور رات اپنے شہر ( مصر ) میں پیاسی ہرنیوں جیسی گوری عورتوں سے دل لگی کرتے ہو ۔ “
ان کی وفات کی خبر لے کر جانے والے سفیان بن عبد شمس بن ابووقاص زہری تھے ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار ( کے لشکر ) کے ساتھ اپنے ہراول دستے پر مقرر کر کے بھیجا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسی سال روانہ ہوئے اور ایلیاء میں پڑاؤ کیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور مدائن کے سفید محلات میں پڑاؤ کیا ، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور مسکن کے مقام پر پڑاؤ کیا ۔
مدائن کا حاکم مختار بن ابوعبید کا چچا تھا ، جس کا نام سعد بن مسعود تھا ، مختار نے ، جو اس وقت نوجوان لڑکا تھا ، اس سے کہا: کیا تمہیں مالداری میں دلچسپی ہے
عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - الضَّرْبَةَ قَالَ : افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ابویحیی بیان کرتے ہیں : جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ضرب لگائی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس کے ساتھ وہی کرنا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا تھا ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تم لوگ اسے قتل کر دو اور پھر اسے جلا دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ظبیان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ظبیان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔