حدیث نمبر: 14790
وَعَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا وَحُمِلَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، أَتَاهُ الْعُوَّادُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : كُلُّ امْرِئٍ مُلَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ ، وَالْأَجْلُ مَسَاقُ النَّفْسِ ، وَالْهَرَبُ مِنْ آفَاتِهِ ، كَمِ اطَّرَدْتُ الْأَنَامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ ، فَأَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا خَفَاءَهُ ، هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ . أَمَّا وَصِيَّتِي إِيَّاكُمْ فَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ ، أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ ، وَخَلَاكُمْ ذَمُّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا ، وَأُحَمِّلُ كُلَّ امْرِئٍ مَجْهُودَهُ ، وَخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ بِرَبٍّ رَحِيمٍ ، وَدِينٍ قَوِيمٍ ، وَإِمَامٍ عَلِيمٍ ، كُنَّا فِي رِيَاحٍ وَذُرْيِ أَغْصَانٍ ، وَتَحْتَ ظِلِّ غَمَامَةٍ اضْمَحَلَّ مَرْكَزُهَا فَيَحُطُّهَا عَلُوٌّ خَاوَرَكُمْ تَدَنِّي أَيَّامِنَا تِبَاعًا ، ثُمَّ هَوَاءً فَسَتَعْقُبُونَ مِنْ بَعْدِهِ جُثَّةً خَوَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَكَةٍ كَاظِمَةً ، بَعْدَ نُطُوقِ أَنَّهُ أَبْلَغُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنْ نُطْقِ الْبَلِيغِ ، وَدَاعِيكُمْ دَاعٍ مُرْصَدٌ لِلتَّلَاقِ ، غَدًا تَرَوْنَ أَيَّامِي ، وَيُكْشَفُ عَنْ سَرَائِرِي ، لَنْ يُحَابِيَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَنْ أَتَزَلَّفَهُ بِتَقْوًى فَيَغْفِرَ عَنْ فَرْطِ مَوْعُودٍ ، عَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَوْمَ اللِّزَامِ إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي ، وَإِنْ أَفْنَى فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي ، الْعَفْوُ لِي فَدِيَةٌ وَلَكُمْ حَسَنَةٌ ، فَاعْفُوا عَفَا اللَّهُ عَنَّا وَعَنْكُمْ " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ثُمَّ قَالَ : عِشْ مَا بَدَا لَكَ قَصْرُكَ الْمَوْتُ لَا مَرْحَلٌ عَنْهُ وَلَا فَوْتُ بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَتِهِ ¤ زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا ¤ وَلَعَلَّ مَا تُجْدِي لَنَا لَيْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

عوانہ بن حکم بیان کرتے ہیں : جب عبدالرحمن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا ، تو عیادت کرنے والے لوگ ان کے پاس آنے لگے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر یہ بات بیان کی : کہ ہر آدمی کو اس صورت حال کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، جس سے وہ بھاگتا پھرتا ہے ، اور موت جان کو لے جاتی ہے ، اور بھاگنا اُس کی آفات میں سے ایک ہے ، میں کتنے عرصے تک اس مسئلے کے پوشیدہ اسرار کو جان لینے کی کوشش کرتا رہا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ وہ پوشیدہ رہے ، یہ پوشیدہ علم دور ہے ، بہرحال تم لوگوں کو میری وصیت اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہے کہ تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ہے کہ تم اُن کی سنت کو ضائع نہ کرنا ، تم لوگ ان دونوں ستونوں کو قائم رکھنا اور تم پر کوئی مذمت نہیں ہو گی ، جب تک تم ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے ) روگردانی نہیں کرتے ، اور میں ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ( عمل کرنے کا ) مکلف قرار دیتا ہوں ، اور رحم کرنے والا پروردگار ، مستقیم ( یا مضبوط ) دین اور علم والے امام ( یعنی پیشوا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں جاہل ( یعنی ناواقف ) لوگوں کو ( بہت سے امور میں ) تخفیف دی گئی ہے ۔ ہم ہواؤں کی زد میں رہے اور لہراتی ہوئی ٹہنیوں میں رہے ، اور بادل کے سائے کے نیچے رہے ( یعنی ایسی حالت میں رہے جس کو ثبات اور قرار حاصل نہیں تھا ) اس ( بادل ) کا مرکز چھٹ گیا ہے ( یعنی بادل چلا گیا ) اور بلندی اس کو نیچے کی طرف لے آئی ، ہمارے ایام ایک دوسرے کے پیچھے ( تیزی سے ) گزرتے ہیں ، پھر ہوا ( یعنی فراغت یا کشادگی یا وہم ) ہے ، اور پھر اس کے بعد تمہارے سامنے خالی جسم ہو گا ، جو حرکت کے بعد ساکن اور گویائی کے بعد خاموش ہو چکا ہو گا ، عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ بات بلیغ گفتگو سے زیادہ مؤثر ہے اور تمہیں دعوت دینے والا ایسا فرد ہے جو ( اللہ تعالیٰ ) کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار ہے ، کل تم میری زندگی کا جائزہ لو گے اور میرے پوشیدہ معاملات سے پردہ ہٹے گا ، اللہ تعالیٰ مجھ پر اسی صورت میں فضل کرے گا جب میں تقویٰ ساتھ لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤں گا ، وہ مغفرت کر دے گا جس کا وعدہ ہے ، قیامت کے دن تم پر سلامتی نازل ہو ، اگر میں بچ گیا تو اپنے خون کا میں خود ولی ہوؤں گا اور اگر میں مر گیا ، ویسے مرنا تو میں نے ( کسی نہ کسی دن ) ہے ، تو ( میرے قاتل کو ) معاف کر دینا میرے حق میں فدیہ اور تمہارے حق میں بھلائی ہو گی ، تو تم لوگ معاف کر دینا ، اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے درگزر کرے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” جتنا تمہیں اچھا لگے جی لو ، تمہارا انجام بہرحال موت ہے ، جس سے کوئی مفر نہیں ہے اور وہ آ کے ہی رہے گی ( تم زندہ رہو ) گھر کی خوشحالی اور خوشی کے درمیان رہو ، آخرکار یہ خوشحالی ختم ہو جائے گی اور گھر چھوٹ جائے گا ، ہائے افسوس ! ہمارے ساتھ کیا مراد لیا گیا ہے ؟ اور ہمیں جو دیا گیا ہے ، وہ ” اے کاش “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام کلبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14790
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167)»