مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ السَّيْفِ . قَالَ عَلِيٌّ : وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : فَمَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ مُحَارِبًا يُخْبِرُ بِذَا عَنْ نَفْسِهِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ كُنْتَ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أُخِّرْتُ عَنِ الشَّهَادَةِ : " إِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ " . قَالَ : " كَيْفَ خَبَرُكَ إِذَا خُضِّبَتْ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ؟ " . وَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَتِهِ وَرَأْسِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا إِذْ بَيَّنْتَ لِي مَا بَيَّنْتَ فَلَيْسَ ذَاكَ فِي مَوَاطِنِ الصَّبْرِ ، وَلَكِنْ هُوَ فِي مَوَاطِنِ الْبُشْرَى وَالْكَرَامَةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غزوہ احد کے دن جب مجھے شہادت سے پیچھے رکھا گیا تھا ، تو آپ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ شہادت بعد میں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی داڑھی اور ان کے سر کی طرف بڑھایا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جب آپ نے میرے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے ، تو پھر یہ صبر کے مقامات میں سے نہیں ہے ، بلکہ یہ خوشخبری اور کرامت کے مقامات میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔