حدیث نمبر: 14787
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ كُنْتَ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أُخِّرْتُ عَنِ الشَّهَادَةِ : " إِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ " . قَالَ : " كَيْفَ خَبَرُكَ إِذَا خُضِّبَتْ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ؟ " . وَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَتِهِ وَرَأْسِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا إِذْ بَيَّنْتَ لِي مَا بَيَّنْتَ فَلَيْسَ ذَاكَ فِي مَوَاطِنِ الصَّبْرِ ، وَلَكِنْ هُوَ فِي مَوَاطِنِ الْبُشْرَى وَالْكَرَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے غزوہ احد کے دن جب شہادت کو موخر کیا تھا ، تو آپ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ شہادت بعد میں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیسے خبر ہو سکتی ہے جبکہ اس کو اس کے ذریعے رنگین کر دیا جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی داڑھی اور ان کے سر کی طرف بڑھایا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جب آپ نے میرے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے ، تو پھر یہ تو صبر کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے ، لیکن یہ تو خوشخبری اور کرامت بھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12043)»