حدیث نمبر: 14786
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَقَدْ وَضَعْتُ قَدَمِي فِي الْغَرْزِ ، فَقَالَ لِي : لَا تَقْدَمِ الْعِرَاقَ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكَ بِهَا ذُبَابُ السَّيْفِ . قَالَ عَلِيٌّ : وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : فَمَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ مُحَارِبًا يُخْبِرُ بِذَا عَنْ نَفْسِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن سلام میرے پاس آئے ، میں اس وقت اپنا پاؤں رکاب میں رکھ چکا تھا ، انہوں نے مجھ سے کہا: آپ عراق نہ جائیں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تلوار کی نوک آپ کو نقصان پہنچا دے گی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا ہے ۔ ابواسود کہتے ہیں : میں نے آج جیسا دن نہیں دیکھا ، ایک جنگجو شخص اپنی ذات کے بارے میں اس طرح کی بات بیان کر رہا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «الخرجه أبو يعلى فى المسند (491)»