حدیث نمبر: 14781
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ الدِّيلِيِّ قَالَ : مَرِضَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَرَضًا شَدِيدًا حَتَّى أَدْنَفَ ، وَخِفْنَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ إِنَّهُ بَرَأَ وَنَقِهَ ، فَقُلْنَا : هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْحَسَنِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَاكَ ، قَدْ كُنَّا تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ . قَالَ : لَكِنِّي لَمْ أَخَفْ عَلَى نَفْسِي ، أَخْبَرَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى أُضْرَبَ عَلَى هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ - فَتُخَضَّبَ هَذِهِ مِنْهَا بِدَمٍ ، وَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ : " يَقْتُلُكَ أَشْقَى هَذِهِ الْأُمَّةِ ، كَمَا عَقَرَ نَاقَةَ اللَّهِ أَشْقَى بَنِي فُلَانٍ مِنْ ثَمُودَ " . قَالَ : فَنَسَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فَخِذِهِ الدُّنْيَا دُونَ ثَمُودَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوسنان یزید بن مرہ دیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ مستقل بیمار رہے ، تو ہمیں ان کے حوالے سے اندیشہ ہوا پھر وہ تندرست اور صحت یاب ہو گئے ، تو ہم نے کہا: اے ابوالحسن ! آپ کو مبارک باد ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے آپ کو عافیت عطا کی ہے ، ہمیں تو آپ کے بارے میں اندیشہ ہو چلا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : لیکن مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ نہیں تھا ، سیدنا صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک میرے یہاں ضرب نہیں لگائی جائے گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے آگے والے بائیں حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی اور خون کے ذریعے یہ جگہ رنگین نہیں ہو گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی پکڑ کر یہ بات بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تمہیں وہ شخص قتل کرے گا جو اس امت کا سب سے زیادہ بدنصیب ہو گا ، جس طرح اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص قوم ثمود میں سے بنو فلاں کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت قوم ثمود کی ذیلی شاخ کی طرف کر کے بیان کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں علی بن مدینی کا والد موجود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14781
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (569)»